بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1445ھ 26 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

راشن تقسیم کرنے میں کس کو مقدم کیا جائے؟


سوال

 میرے ایک دوست ہیں وہ اپنے حلقہ احباب میں پیسے اکٹھے کر کے ضرورت مند گھروں میں راشن تقسیم کرتے ہیں،  اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟  کیوں کہ  مجھے لگتا ہے کہ یہ کرنے کے بجائے اگر ہم اپنے قریب رشتےداروں عزیز و اقارب پر خرچ کریں  تو وہ زیادہ افضل ہے۔ اُس کے بعد اس نوعیت کے کام آتے ہیں۔

جواب

زکات  اور ہر طرح کے صدقات میں افضل یہ ہے کہ اگر اپنے رشتہ داروں میں  کوئی ضرورت مند اور مستحقِ زکات ہو تو اسی کو پہلے زکات و صدقات  دیے  جائیں، کیوں کہ غریب و مستحق رشتہ داروں کو زکات و صدقات  دینے سے دہرا اجر ملتا ہے، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا، ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص کے رشتہ داروں میں کوئی ضرورت مند ہو اور وہ کسی اور کو صدقہ دے دے تو اللہ تعالیٰ اس کا صدقہ قبول نہیں فرماتے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظرِ رحمت بھی نہیں فرمائیں گے۔اسی طرح اپنے شہر کے مستحقِ زکات غرباء کا حق دوسرے شہر کے غرباء سے مقدم ہے۔

فقہاء نے لکھا ہے کہ سب سے پہلا حق بھائی بہنوں کا ہے، پھر بھائی بہنوں کی اولاد کا ہے، اس کے بعد  چچاؤں اور پھوپھیوں کا، پھر ماموں اور خالاؤں کا، اس کے بعد دیگر رشتہ داروں کا حق ہے، اس کے بعد پڑوسیوں کا، پھر محلہ والوں کا اور پھر اپنے شہر والوں کا حق ہے،  الا یہ کہ اپنے محلے یا شہر والوں کے مقابلے میں کوئی اور زیادہ محتاج ہو یا ان سے زیادہ کسی اور مصرف میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو، یا دوسری جگہ خرچ کرنا مسلمانوں کے لیے زیادہ نافع ہو، مثلاً کسی جگہ دینی تعلیم اسی تعاون پر موقوف ہو اور تعاون نہ کرنے کی صورت میں اشاعتِ دین کا سلسلہ رک جائے۔ 

راشن تقسیم کرنے میں بھی اسی ترتیب کی رعایت رکھنی چاہیے؛ تا کہ صدقہ کے ثواب کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی کا ثواب بھی ملے، اس کے بعد دیگر  فقراء و مساکین میں تقسیم کیا جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 353):

"(و) كره (نقلها إلا إلى قرابة) بل في الظهيرية لاتقبل صدقة الرجل وقرابته محاويج حتى يبدأ بهم فيسد حاجتهم (أو أحوج) أو أصلح أو أورع أو أنفع للمسلمين (أو من دار الحرب إلى دار الإسلام أو إلى طالب علم) وفي المعراج التصدق على العالم الفقير أفضل (أو إلى الزهاد أو كانت معجلة) قبل تمام الحول فلايكره خلاصة.

(قوله: وكره نقلها) أي من بلد إلى بلد آخر؛ لأن فيه رعاية حق الجوار فكان أولى زيلعي والمتبادر منه أن الكراهة تنزيهية تأمل، فلو نقلها جاز؛ لأن المصرف مطلق الفقراء درر، ويعتبر في الزكاة مكان المال في الروايات كلها واختلف في صدقة الفطر كما يأتي (قوله: بل في الظهيرية إلخ) إضراب انتقالي عن عدم كراهة نقلها إلى القرابة إلى تعيين النقل إليهم، وهذا نقله في مجمع الفوائد معزيا للأوسط عن أبي هريرة مرفوعاً إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «يا أمة محمد والذي بعثني بالحق لايقبل الله صدقة من رجل وله قرابة محتاجون إلى صلته ويصرفها إلى غيرهم، والذي نفسي بيده لاينظر إليه الله يوم القيامة» . اهـ. رحمتي. والمراد بعدم القبول عدم الإثابة عليها وإن سقط بها الفرض؛ لأن المقصود منها سد خلة المحتاج وفي القريب جمع بين الصلة والصدقة. وفي القهستاني: والأفضل إخوته وأخواته ثم أولادهم ثم أعمامه وعماته ثم أخواله وخالاته ثم ذوو أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكته ثم أهل بلده كما في النظم. اهـ. قلت: ونظم ذلك المقدسي في شرحه".

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208201142

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں