بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علمِ غیب کا عقیدہ رکھنے والے مسلمان ہیں یا کافر؟


سوال

اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ رسول اللہ ﷺ   عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہیں،  کیا ایسا شخص کافر و مشرک ہوگا یا فاسق و مبتدع؟ 

جواب

سائل نے جو سوال کیا ہے، اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان "مفتی ولی حسن ٹونکی" رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

’’عالم الغیب اور حاضر و  ناظر ہونا اللہ تعالیٰ کی صفاتِ خاصہ میں سے ہے، صفاتِ خاصہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ صفات کسی دوسری ہستی میں نہیں پائی جاسکتیں، البتہ رسول اللہ ﷺ کو جو لوگ ’’عالم الغیب‘‘  کہتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں ان کا یہ عقیدہ قرآن و حدیث کی نصوصِ صریحہ کے خلاف ہے، اور ایسا عقیدہ رکھنے والے کو "گم راہ"  کہاجاسکتاہے، لیکن کافر نہیں کہا جائے گا؛ کیوں کہ ان کے اس عقیدہ میں تاویل کی گنجائش ہے، اور کفر کے باب میں نہایت احتیاط و حزم کی ضرورت ہے۔

کافر کہنے کی وہ وجہ جو آپ نے تحریر کی ہے، ’’فتاویٰ بزازیہ‘‘  اور  ’’خانیہ‘‘  میں یہ جزئیہ موجود  ہے کہ کسی شخص نے نکاح کیا اور نکاح کے وقت گواہ موجود نہیں ہوں اور  اس نے خدا اور رسول کو گواہ کیا تو کافر ہوجائے گا؛ "لأنه یعتقد أنّ الرسول ﷺ یعلم الغیب"، لیکن اس جزئیہ پر علامہ شامی رحمہ اللہ نے کلام کیا ہے، اور اس کو صحیح نہیں کہا، اور نہ اس کو قابلِ فتویٰ قرار دیا ، وجہ وہی ہے جو ابھی تحریر ہوئی کہ اس میں تاویل کی گنجائش ہے۔

تاویل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا  علمِ غیب  ہے یا یہ کہ غیب سے مراد مغیبات ہیں، اور  جناب  رسول اللہ ﷺ، اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے بہت سارے مغیبات کو جانتے ہیں۔ چناں چہ علامہ شامی رحمہ اللہ کی عبارت ملاحظہ ہو:

"و في الحجة: ذكر في الملتقط: أنه لایكفر؛ لأنّ الأشیاء تعرض على روح النبي ﷺ، و أنّ الرسل یعرفون بعض الغیب ... قلت: بل ذكروا في كتب العقائد: أنّ من جملة كرامات الأولیاء الاطلاع على بعض المغیبات."

(رد المحتار علی الدر المختار، كتاب النکاح، قبیل فصل: المحرمات، 3/27، ط: سعید)

اسی طرح "باب المرتد" میں "مسئلۂ علمِ غیب" پر بحث کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:

"و حاصله: أن دعوى علم الغیب معارضة لنصّ القرآن؛ فیكفر بها، إلا إذا أسند ذلك صریحًا أو دلالةً إلی سبب من الله تعالى، كوحي أو إلهام، و كذا لو أسنده إلى أمارة عادیة بجعل الله تعالى."

(كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب في دعوی علم الغیب، 4/243، ط: سعید)

کتبہ: ولی حسن‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں