بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ طور پر ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کرنا


سوال

دو افراد گائے کی  قربانی میں حصہ دار بنے،  3 3 حصہ اپنے لیے،  ایک حصہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے،  ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

اگر دو آدمی ایک گائے میں تین تین حصے اپنے لیے کرنا چاہتے ہوں اور ایک حصہ مشترکہ طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کرنا چاہتے ہوں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ  دونوں حصہ دار   اپنے حصے کی رقم  کسی ایک  کو ہبہ (گفٹ) کردیں، پھر ایک کی طرف سے نفلی قربانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کے لیے   کی جائے۔ ایسا کرنے سے دونوں حصہ دار  پورے ثواب کے حق دار ہوں گے۔

      ''بدائع الصنائع'' میں ہے:

'' وأما قدره فلايجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمةً سمينةً تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد، وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر، فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس.

فإن قيل: أليس أنه روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لايذبح من أمته، فكيف ضحى بشاة واحدة عن أمته عليه الصلاة والسلام؟

(فالجواب): أنه عليه الصلاة والسلام إنما فعل ذلك لأجل الثواب؛ وهو أنه جعل ثواب تضحيته بشاة واحدة لأمته لا للإجزاء وسقوط التعبد عنهم، ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء''.

(5/70، کتاب الاضحیہ، ط: سعید)

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں