بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں کی تعداد/ ایک بیٹی کا دعوی اجماع کے خلاف ہے


سوال

 جہیز میں تسویہ نہ کرنا یہ انصاف کہ خلاف ہے یا نہیں؟ شیعہ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضور کی ایک ہی بیٹی ہے کیونکہ اسکے جہیز کا ذکر ہے ،باقی اگر بیٹیاں ہوتی تو انکے جہیز کا ذکر ہوتا میں نے ان کو جواب دیا کہ زینب رض کو موتیوں کا ہار دیا تھا جو بدر کے موقع پر انہوں نے پیش کیا تھا، لیکن وہ کہتے ہیں اگر چار بیٹیاں ہوتی تو سب کا برابر جہیز ہوتا۔

جواب

جہیز والدین کی طرف سے اولاد کو ہبہ ہوتا ہے، ہبہ میں اصولاً اولاد کے درمیان برابری ہونی چاہیے، تاہم اگر حالات کی بنیاد پر جہیز کی مقدار میں کمی زیادتی ہوجائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

باقی مذکورہ دعوی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں ہوتی تو سب کا برابر جہیز ہوتا ، بے اصل وبے بنیاد ہے، کسی چیز کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس چیز کا وجود ہی نہیں ہے، نیز اس بات کو بنیاد بناکر سرے سے یہ دعوی کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہی بیٹی تھی نہ کہ چار،اجماعِ امت، نصوص ومتداول کتب کی عبارات وتصریحات کا انکار ہے،روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں صاحبزادیاں کا تذکرہ موجود ہے اور بعض روایات میں ان کو شادی کے موقع پر دیے گئے زیور کا بھی ذکر ہے، اس لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دیگر صاحبزادیوں رضی اللہ عنہن اجمعین کے جہیز کا مکمل تذکرہ نہ ہونے سے یہ استدلال کرنا کہ بیٹی ایک ہی تھی کم فہمی اور ناواقفیت کی دلیل ہے۔

صحيح بخاری میں ہے:

"عن ‌الزهري قال: أخبرني ‌أنس بن مالك : «أنه رأى على أم كلثوم عليها السلام بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌برد ‌حرير سيراء."

(کتاب اللباس،باب الحریر للنساء،ج:7،ص:151،ط:دار طوق النجاۃ)

وفیہ ایضاً:

"عن ‌ابن عمر رضي الله عنهما قال: «إنما تغيب عثمان، عن بدر ‌فإنه ‌كانت ‌تحته بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت مريضة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: إن لك أجر رجل ممن شهد بدرا وسهمه."

(كتاب فرض الخمس،باب إذا بعث الإمام رسولا في حاجة أو أمره بالمقام هل يسهم له،ج:4،ص:88،ط:دار طوق النجاۃ)

وفی عمدۃ القاری تحتہ:

"(‌كانت ‌تحته) أي: تحت عثمان بنت رسول الله، صلى الله عليه وسلم وهي رقية، توفيت ورسول الله، صلى الله عليه وسلم في بدر، ثم زوجه أم كلثوم فتوفيت ‌تحته سنة تسع، وهي التي غسلتها أم عطية."

(كتاب فرض الخمس،باب إذا بعث الإمام رسولا في حاجة أو أمره بالمقام هل يسهم له،ج:15،ص:54،ط:دار احياء التراث العربي)

صحيح مسلم ميں ہے:

"عن أم عطية، قالت: ‌لما ‌ماتت ‌زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اغسلنها وترا ثلاثا، أو خمسا، واجعلن في الخامسة كافورا، أو شيئا من كافور، فإذا غسلتنها، فأعلمنني» قالت: فأعلمناه، فأعطانا حقوه وقال «أشعرنها إياه."

(كتاب الجنائز، باب في غسل الميت،ج:2،ص:648،ط:دار احياء التراث العربي)

"اسد الغابة في معرفة الصحابة"میں ہے:

"فولدت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ولده كلهم قبل أن ينزل عليه الوحي: زينب، وأم كلثوم، وفاطمة، ورقية، والقاسم، والطاهر والطيب."

( خديجة بنت خويلد،ج:7،ص:80،ط:دار الكتب العلمية)

"شرح الزرقاني علي مواهب اللدنية "میں ہے:

"‌‌الفصل الثاني: في ذكر أولاده الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام

اعلم أن جملة ما اتفق عليه منهم ستة: القاسم وإبراهيم، وأربع بنات: زينب ورقية وأم كلثوم وفاطمة، وكلهن أدركهن الإسلام وهاجرن معه."

(الفصل الثاني: في ذكر أولاده الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام،ج:4،ص:313،ط:دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101509

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں