بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

رسول اور نبی میں فرق


سوال

نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نبی اور  رسول  دونوں  کے ہم معنی یا مختلف المعنی ہونے میں اختلاف ہے۔ راجح یہ ہے کہ دونوں میں فرق ہے۔اور دونوں میں فرق ہونے کے بارے میں متعدد اقوال ہیں۔مشہور یہ ہے کہ ’’رسول‘‘ اس پیغمبر کو کہتے ہیں جس کو نئی کتاب اور نئی شریعت دی گئی ہو۔  اور ’’نبی‘‘ ہر پیغمبر کو کہتے ہیں، چاہے اسے نئی شریعت دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو اور وہ اپنے سے پہلے والےرسول کی اتباع کرتے ہوئے اس کی شریعت کی تبلیغ کرے۔

 حکیم الامت  حضرت  تھانوی رحمہ اللہ  دونوں کےفرق کو بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں :

’’ان دونوں  میں  عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے، ’’رسول‘‘ وہ ہے جو مخاطبین کو شریعتِ جدیدہ پہنچائے، خواہ وہ شریعت خود اس رسول کے اعتبار سے بھی جدید ہو جیسے تورات وغیرہ یا صرف ان کی امت کے اعتبار سے جدید ہو جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شریعت، وہ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قدیم شریعت ہی تھی، لیکن ’’قوم جرہم‘‘ جن کی طرف ان کو مبعوث فرمایا تھا، ان کو اس شریعت کا علم پہلے سے نہ تھا، حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کے ذریعہ ہوا۔ اس معنی کے اعتبار سے رسول کے لیے نبی ہونا ضروری نہیں، جیسے فرشتے کہ وہ رسول تو ہیں مگر نبی نہیں ہیں، یا جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے فرستادہ قاصد جن کو آیتِ قرآن(( اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ))[سورة یٰس :13]میں رسول کہا گیا ہے، حالانکہ  وہ انبیاء نہیں تھے۔
اور نبی وہ ہے جو صاحبِ وحی ہو خواہ شریعتِ جدیدہ کی تبلیغ کرے یا شریعتِ قدیمہ کی، جیسے اکثر انبیاءِ بنی اسرائیل شریعتِ موسویہ  کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک اعتبار سے لفظِ رسول نبی سے عام ہے اور دوسرے اعتبار سے لفظِ نبی بہ نسبت رسول کے عام ہے، جس جگہ یہ دونوں لفظ ایک ساتھ استعمال کیےگئے جیسا کہ  سورۃ مریم میں (( رَسُوْلاً نَّبِیًّا))[آيت 54]آیا ہے، وہاں تو کوئی اشکال نہیں کہ خاص اور عام دونوں جمع ہو سکتے ہیں، کوئی تضاد نہیں، لیکن جس جگہ یہ دو لفظ باہم متقابل آئے ہیں جیسے ((وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ ))[سورة الحج :52]میں تو اس جگہ  مقام کے قرینہ کی وجہ سے  لفظِ ِنبی کو خاص اس شخص کے معنی میں لیا جائے گا جو شریعتِ سابقہ کی تبلیغ کرتا ہے۔‘‘

( بحوالہ معارف القرآن، ج:6،ص:42، سورۂ مریم، ط: مکتبہ معارف القرآن)

کتاب التعریفات للجرجانی میں ہے :

"الرسول: إنسان بعثه الله إلى الخلق لتبليغ الأحكام.الرسول: في اللغة: هو الذي أمره المرسل بأداء الرسالة بالتسليم أو بالقبض. قال الكلبي، والفراء: كل رسول ‌نبي، من غير عكس. وقالت المعتزلة: لا فرق بينهما؛ فإنه تعالى خاطب محمدًا مرة بالنبي، وبالرسول مرة أخرى."

(ص:110،دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں