بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

رسمِ قل منعقد کرنا اور اس پر پیسے لینے کا حکم


سوال

رسمِ قل خوانی کرنا کیسے ہے؟نیز قل خوانی کے دوران جب قرآن پاک کی تلاوت کی جا رہی ہو تو اس وقت قاری صاحب کے سامنے پیسے رکھنا اور قاری صاحب کا مذکورہ پیسے لینا  کیسا ہے ؟ 

جواب

میت کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآنِ کریم پڑھ کر اُسے بخشنا بلاشبہ جائز ہے اور یہ ثواب میت تک پہنچتا ہے، البتہ اس کے لیے کسی خاص وقت کی یا دنوں کی تخصیص کرنااور پھر اس موقع پر لوگوں سے پیسے  لے کر کمائی کا ذریعہ بنانا شرعاً درست نہیں، بلکہ بدعت میں شامل ہے، اس لیے رسمِ قل جیسے مروّجہ  امور بدعات میں شامل ہیں اور ان کا انعقاد  کرنا جائز نہیں ہے، اور مذکورہ رسم قل کی بنا  پر قاری صاحب کے  لیے پیسے لینا بھی جائز نہیں ہے۔

کفایت المفتی میں ہے :

"(سوال) میت کے لیے تیسرے دن قل و ساتواں و چالیسواں کرنا اور اسقاط میت کا کرانا، جیساکہ آج کل مروج ہے ایسا کرنا قرآن و حدیث صحیحہ سے ثابت ہے یا نہیں؟  فاتحہ بر طعام قبل از کھانے کے پڑھنا قرآن و حدیث صحیحہ سے ثابت ہے یا نہیں؟

 المستفتی نمبر :1188، عبدالعزیز مشین والا ( ضلع سیالکوٹ) 28:جمادی الثانی ۱۳۵۵؁ھ ۱۶ ستمبر ۱۹۳۶؁ء۔

(جواب :158) ایصالِ ثواب جائز ہے، مگر قل اور ساتواں، دسواں، چہلم یہ سب بدعات ہیں۔ اپنی حیثیت اور مقدار کے موافق جو کچھ میسر ہو اور جب میسر ہو صدقہ کرکے ثواب بخش دینا چاہیے، اسقاط کا مروجہ طریقہ بھی ناجائز ہے۔ ایصالِ ثواب کے لیے کھانا شیرینی سامنے رکھ کر فاتحہ پڑھنا بے اصل ہے، بلکہ جیسے نقدی وغیرہ بغیر فاتحہ صدقہ کردیتے ہیں اسی طرح کھانے شیرینی کے ساتھ بھی معاملہ کرنا چاہیے۔محمدکفایت اللہ کان اللہ لہ‘ دہلی".

(کتاب الجنائز، رسم قل، دسواں، چالیسواں اور شرینی پر فاتحہ پڑھنا سب بدعت ہے، ج:4، ص:134، ط:دارالاشاعت)

فتاویٰ شامی (حاشية ابن عابدين) میں ہے:

"وقد أطنب في رده صاحب تبيين المحارم مستندا إلى النقول الصريحة، فمن جملة كلامه قال تاج الشريعة في شرح الهداية: إن القرآن بالأجرة لا يستحق الثواب لا للميت ولا للقارئ. وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون - اهـ".

(کتاب الإجارۃ، مطلب في الاستئجار على الطاعات، ج:6، ص:56، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100903

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں