بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

رقم منتقلی کی اجرت لینے کا حکم


سوال

بذریعہ کوریئر چارج لےکرایک شہر سے دوسرےشہر میں رقم بھیجنا کیسا ہے ؟ پہلی صورت یہ ہے کہ زید ممبئی سے بہار لوگوں کے پیسے بھیجتاہے،جس میں ہرسوروپیہ میں پانچ روپیہ چارج کرتاہے؟ دوسری صورت یہ ہوتی ہےکہ زید عمر سے پانچ ہزار لیتا ہے اور مزید پانچ ہزار اپنی طرف سے ملاتا ہے اور عمر کے گھرجوکہ بہارمیں ہےدس ہزار بھیجتا ہے،جس میں پانچ روپیہ فی سینکڑا چارج کرتاہے اور جو رقم زید نے اپنی طرف سےدیاہے جوکہ پانچ ہزار ہے،اس کی ادائیگی کی مدت پندرہ دن رہتی ہے،پندرہ دن کے اندر اداء نہ کرنے صورت میں تاخیر فیس یا جرمانہ کے نام سے پانچ ہزار پر  پانچ سو روپیہ وصول کرتاہے یعنی پانچ روپیہ سینکڑا، ہردوصورت میں بھیجنے والا بذریعہ بینک پیسے بھیجتاہےاور پیسے والے کو ان کے گھر تک پیسے پہنچائےجاتےہیں،جس کو کام کرنے والا اپنی محنت کا عنوان دیتا ہے براہ کرم ہردو صورت کی وضاحت فرمائیں،اگر صورت مذکورہ درست نہیں ہے تو متبادل شکل کی وضاحت فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ رقم منتقلی کی سروس فراہم کرنے کے عوض میں اجرت لینا جائز ہے، تاہم یہ اجرت اس رقم کے علاوہ پیسوں سے ادا کی جائے گی، منتقل کی جانے والی رقم  میں سے لینا جائز نہیں۔

ذکر کردہ صورتوں میں سے پہلی صورت میں اگر زید ایک شہر سے دوسرے شہر رقم  منتقلی کی الگ سے اجرت متعین کر کے لیتا ہے اور جو رقم بھیجی جائے وہ پوری پوری آگے پہنچاتا ہے تو یہ صورت جائز ہے، دوسری صورت میں چونکہ پانچ ہزار اپنی طرف سے قرض دے کر اسے خود ہی معاوضہ لے کر آگے بھیجنے میں ایک طرح سے اپنے قرض پر نفع لینے اور بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں مالی جرمانہ  لینے کی خرابی پائی جاتی ہے، اس لیے دوسری صورت جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (61 / 4):

"(وكل ما صلح ثمنًا) أي بدلًا في البيع (صلح أجرة) لأنها ثمن المنفعة."

وفیہ ایضاً :

"وأفاد في البزازية: أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدةً؛ لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي ... وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ."

( کتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، صفحہ: 61، ط: ایچ، ایم، سعید)

وفیہ ایضاً :

"(قوله کل قرض جر نفعا حرام) ای اذا کان مشروطا کما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولیة،فصل فی القرض،  مطلب کل قرض جر نفعا حرام، ص:166، ج:5، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101988

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں