بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

رقم کی منتقلی پر اجرت وصول کرنے کا حکم


سوال

آج کل بہت سے کاروباری لین دین ایکسپریس منی جیسے ایزی پیسہ، جاز کیش اور یو  پیسہ  کے ذریعے ہوتے ہے جو پیسے منتقل کرنے کی کچھ رقم اضافی مانگتے ہیں یا اصل رقم سے منتقلی کے وقت کاٹ لیتے ہیں، اور ہماری کمپنی انہی سہولیات میں سے کسی ایک کو استعمال کرنے کا پاپند بناتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافی رقم جو اصل رقم کے علاوہ لی جاتی ہے وہ سود کے زمرہ میں آتی ہے؟ اور کیا اس کا کوئی متبادل راستہ ہے یا ہمیں کیا کرنا چاہیے اس حوالے سے۔

جواب

صورت مسئولہ میں پیسہ منتقل کرنے کے بدلے جو  رقم وصول کی جاتی ہے وہ سروس چارجز ہونے کی بناء پر سود کے زمرے میں نہیں آتی،البتہ  سروس چارجز کی جو  رقم لی جاتی ہے وہ اصل ر قم سے علیحدہ کر کے دی جائے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ولو استأجر رجلا ينقد له الدراهم كل ألف بكذا أو استأجره على كل شهر بكذا ينقد له فهو جائز؛ لأن في الفصل الأول استأجره على عمل معلوم ببدل معلوم والاستئجار على ذلك متعارف بين الناس، وهو الأصل في عقد الإجارة، وفي الفصل الثاني عقد على منافع في مدة معلومة ببدل معلوم ليقيم بتلك المنافع عملا مقصودا"

(کتاب الشروط، ج:30، ص:204، ط:دارالفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: للطحان) أي لمسألة قفيز الطحان، وهي كما في البزازية أن يستأجر رجلا ليحمل له طعاما أو يطحنه بقفيز منه فالإجارة فاسدة، ويجب أجر المثل لا يتجاوز به المسمى"

(کتاب البیوع، باب الصرف، مطلب مسائل فی المقاصۃ، ج:5، ص:280، ط:ایچ ایم سعید کمپنی)

و فیہ ایضا:

"(استأجر رجلا لإيصال خط) أي كتاب (أو زاد إلى زيد، إن رده) أي المكتوب أو الزاد (لموته) أي زيد (أو غيبته لا شيء له) ؛ لأنه نقضه بعوده كالخياط إذا خاط ثم فتق وفي الخانية: استأجره ليذهب لموضع كذا ويدعو فلانا بأجر مسمى فذهب للموضع فلم يجد فلانا وجب الأجر (فإذا دفع الخط إلى ورثته) في صورة الموت (أو من يسلم إليه إذا حضر) في صورة غيبته (وجب الأجر بالذهاب)"

(كتاب الاجارة، ج:6، ص:20، ط:ايچ ايم سعيد كمپني)

و فيه ايضا

"(قوله فسدت في الكل) ويجب أجر المثل لا يجاوز به المسمى زيلعي (قوله بجزء من عمله) أي ببعض ما يخرج من عمله، والقدرة على التسليم شرط وهو لا يقدر بنفسه زيلعي. (قوله عن قفيز الطحان) وهو المسألة الثالثة التي ذكرها المصنف كما ذكره الزيلعي (قوله والحيلة أن يفرز الأجر أولا) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولا يكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه كما في المنح عن جواهر الفتاوى"

(کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ، ج:6، ص:57، ط:ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

بدائع الصنائع میں ہے:

"على هذا يخرج ما إذا استأجر رجلا على أن يحمل له طعاما بعينه إلى مكان مخصوص بقفيز منه أو استأجر غلامه أو دابته على ذلك أنه لا يصح"

(کتاب الاجارۃ، فصل فی انواع شرائط رکن الاجارۃ، ج:4، ص:191، ط:دارالکتب العلمیۃ بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101939

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں