بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں تعلیم حاصل کرنے کاحکم


سوال

میں یونیورسٹی میں بی ایس اسلامیات کا طالب علم ہوں،  رمضان میں  ہماری کلاسس اور امتحان ہوگا،  کچھ طلباء یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ رمضان عبادت کا مہینہ ہے اس میں یونیورسٹی کی  کلاسس لینا اور امتحان دینا ناجائز ہے اور یہ   دنیوی کام میں شمار ہوتا ہے۔ دوستوں کے مطابق امتحان نہیں ہونا چاہیے،   ان  کی  دلیل یہ ہے کہ اس سے ہماری نفلی عبادات میں  کوتاہی ہوگی اور یہ گناہ کے زمرے میں آئے گا!

جواب

واضح رہے کہ رمضان  المبارک کا مہینہ تمام مہینوں کا سردار  ہے،   انتہائی بابر کت اور فضیلت والا مہینہ ہے ،اس مہینہ میں ایک فرض کااجر ستر فرائض کے برابر اور  ایک نفل کا اجر ایک فرض کے برابر ہے، اس لیے اس مہینے کو غنیمت سمجھ کر اس میں اللہ تعالی کی خوب عبادت کرنی چاہیے،تاہم رمضان المبارک میں دنیوی کام یا دنیوی تعلیم حاصل  کرنا شرعاً ممنوع نہیں ہے، لہٰذا جو طلباء یہ   کہتے ہیں کہ رمضان میں   کلاسیں لینا اور امتحان دینا ناجائز ہے، ان کا یہ کہنا شرعاً درست نہیں ہے، لیکن بہتر یہ  ہے کہ رمضان المبارک  میں اللہ تعالی کی کثرت سے عبادت کرنے کےلیے  اپنے آپ کو فارغ  کیا جائے،  لہذا اگر رمضان میں کلاسس  کو موقوف کرنے  سے تعلیم  میں    کوئی  حرج نہیں آتاہو تو بہترہےکے موقوف کیا جائے ؛ تاکہ عبادت کو احسن طریقہ سے اداکیا جائے،باقی  تعلیم جاری رکھنا شرعاً ممنوع نہیں ہے،اور نہ ہی یہ گناہ  کے زمرے میں آتا ہے۔

شعب الایمان للبیھقی میں ہے:

"عن سلمان الفارسي، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر يوم من شعبان فقال: " يا أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم، شهر مبارك، شهر فيه ليلة خير من ألف شهر، جعل الله صيامه فريضة، وقيام ليله تطوعا، من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه، ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى ‌سبعين ‌فريضة فيما سواه".

(شعب الايمان،ج:5،ص:323،رقم الحديث:3336،ط:مكتبة الرشد بالرياض)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144308101224

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں