بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا رمضان میں زکٰوۃ ادا کرنا ضروری ہے؟


سوال

 کیا زکوۃ کی غرض سے نکالی گئی رقم کی ادائیگی رمضان المبارک میں ہی کرنا ضروری ہے یا بعد میں بھی ادا کی جا سکتی ہے؟

جواب

زکوۃ شرعی  فریضہ ہے؛  اس لیے اس کی جلد ادائیگی بہتر ہے اور بلاوجہ تاخیر گناہ ہے،  البتہ عذرہو مثلًا   سال بھر رقم تقسیم کرنی ہو یا مستحق دستیاب نہ ہو تو پھر تاخیر میں حرج نہیں ہے۔ لہٰذا کسی کی  زکوٰۃ کا سال رمضان میں ہی مکمل ہو تو رمضان میں ہی  زکوٰۃ ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ باقی ہر صاحبِ نصاب کو رمضان میں ہی زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے : 

"(وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانيةفيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفور وهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام، وتمامه في الفتح."

(رد المحتارعلى الدرالمختار ، كتاب الزكاة ،باب زكاة الغنم ، ج : 2 ، ص :271 و 272، الناشر : سعيد)

فتاوی  ہندیہ میں ہے : 

"(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية. ..إلخ "

(الفتاوى الهندية ، كتاب  الزكاة  ، باب في تفسير الزكاة و صفتها و شرائطها ، ج : 1، ص : 175 ، الناشر : دار الفكر) 

و فيه  أیضا : 

"ذكر الحاكم الشهيد في المنتقى أن وجوبها على  الفور عند أبي يوسف ومحمد ، في الخلاصة : وهو الأصح و عن محمد أن من لم يؤد الزكاة - في الخانية : وأخر من  غير عذر - لاتقبل شهادته و أن التأخير لايجوز ، و في الظهيرية  : إذا وقف  عليه الإما م غزره و حبسه و طالبه ...إلخ "

(الفتاو ى التارتارخانية ، المؤلف :عالم بن العلاء ، كتاب الزكاة ، ج :3 ، ص : 135 ، الناشر : مكتبة زكريا) 

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144509101589

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں