بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے مہینے میں صحبت کرنے کا حکم


سوال

رمضان میں رات کو میاں بیوی کے لیے صحبت کرنا جائز ہے؟  

جواب

بصورتِِ  مسئولہ رمضان کے  مہینے  میں روزے کے دوران صحبت کرنا ممنوع ہے، باقی روزہ کے بعد یعنی غروبِ آفتاب سے لے کر صبح صادق تک کھانا،  پینا، صحبت کرنا جائز ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (187)

ترجمہ :  تم لوگوں کے واسطے روزہ کی شب میں اپنی بیبیوں سے مشغول ہونا حلال کردیا گیا، کیوں کہ وہ تمہارے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہیں اور تم ان کے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہو ۔ خدا تعالیٰ کو اس کی خبر تھی کہ تم خیانت (کرکے گناہ میں اپنے کو مبتلا) کررہے تھے (مگر) خیر الله تعالیٰ نے تم پر عنایت فرمائی تم سے گناہ کو دھودیا ۔ سو اب ان سے ملو ملاؤ ۔ اور جو (قانون اجازت) تمہارے لیے تجویز کردیا ہے (بلاتکلف) اس کا سامان کرو اور کھاؤ اور پیو (بھی) اس وقت تک کہ تم کو سفید خط (کہ عبارت ہے نور) صبح (صادق) کا متمیز ہوجاوے سیاہ خط سے،  پھر (صبح صادق سے) رات تک روزہ کو پورا کیا کرو ۔ اور ان بیبیوں (کے بدن) سے اپنا بدن بھی مت ملنے دو جس زمانہ میں کہ تم لوگ اعتکاف والے ہو مسجدوں میں،  یہ خداوندی ضابطے ہیں سو ان (سے نکلنے) کے نزدیک بھی مت ہونا، اسی طرح الله تعالیٰ اپنے ( اور ) احکام (بھی) لوگوں (کی اصلاح) کے واسطے بیان فرمایا کرتے ہیں اس امید پر کہ وہ لوگ (احکام پر مطلع ہوکر خلاف کرنے سے) پرہیز رکھیں۔

(بیان القرآن)

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"أما تفسيره فهو عبارة عن ترك الأكل والشرب والجماع من الصبح إلى غروب الشمس بنية التقرب إلى الله كذا في الكافي."

(كتاب الصوم، الباب الأول في تعريفه وتقسيمه وسببه ووقته وشرطه، ج:1، ص:194، ط:مكتبه رشيديه) 

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144209201273

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں