بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے قضا روزوں میں بھول کر یا غلطی سے کچھ کھانا پینا


سوال

عورت کا رمضان کے قضا روزے میں غلطی سے پانی پینا یا کچھ کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں یعنی رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں یہ غلطی ہو ؟

جواب

روزہ خواہ فرض ہو، رمضان کی قضا کا ہو یا نفل ہو، اس میں اگر  بھول کر کچھ کھا یا پی لیا تو اس سے   روزہ نہیں ٹوٹتا ، البتہ اگر روزہ یاد ہو اور غلطی سے  کچھ حلق سے نیچے چلا جائے تو رزہ ٹوٹ جائے گا،  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو روزے میں بھول کر کھا، یا پی لے، اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے؛ اس لیے کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

"مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ".

(الصحیح لمسلم، کتاب الصيام، باب أکل الناسي وشربه وجماعه لايفطر، 2 : 809، رقم :  1155)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144206200876

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں