بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

کراچی میں صدقہ فطر کی مقدار مورخہ 5 رمضان 1444ھ


سوال

اس سال 1444ھ بمطابق 2023ء کراچی میں  صدقہ فطر کی مقدار  کیا چل رہی  ہے؟

جواب

صدقہ فطر  میں چار  اجناس (گندم،جو،کھجور،کشمش)میں سے کسی ایک جنس  کا دینا یا اس کی مارکیٹی قیمت کادینا ضروری ہے، تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

1:گندم نصف صاع یعنی پونے دو کلو   تاہم احتیاطًا دو کلو یا اس کی  بازاری قیمت دینی  چاہیے۔

2: جو ایک صاع یعنی تقریبًا ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے۔

3:کھجور  ایک صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے۔

4:کشمش ایک  صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے،

 نوٹ :مذکورہ چار اجناس میں سے کسی ایک کی  بازاری قیمت فقیر کی حاجت پورا کرنے کے  لیے  صدقہ فطر    کے طور پر دینا زیادہ بہتر   ہے ۔

لہذا کراچی اور اس کے مضافات کے لیے امسال1444ھ2023ءجامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی جانب سے    صدقہ فطر کی مقدار درج ذیل ہے:

گندم :250 روپے

جو :                460روپے 

 کھجور :1,470روپے

کشمش:2,630روپے

نوٹ :مذکورہ بالااشیاء کی قیمتوں کا اندازہ مؤرخہ 5رمضان 1444ھ مطابق 27مارچ 2023 کے نرخ کے حساب سے کیا گیا ہے ۔قیمتوں میں آئے روز اضافہ کی وجہ سے صدقۃ الفطر کی ادائیگی کے وقت ان اشیاء کی قیمتیں معلوم کر کے مقررہ مقدار کے مطابق صدقہ فطر ادا کریں ۔

صحیح بخاری میں ہے :

"عن ‌عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح العامري : أنه سمع ‌أبا سعيد الخدري رضي الله عنه يقول:"كنا نخرج زكاة الفطر، صاعا من طعام، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من أقط،أو صاعا من ‌زبيب."

(کتاب الصوم،باب صدقة الفطر صاع من طعام،ج:2،ص:131،ط:دارالفكر)

سننِ نسائی میں ہے :

"عن ‌ابن عباس قال:"ذكرفي صدقة‌الفطرقال:صاعامن برأوصاعامن تمرأوصاعامن شعيرأوصاعامن سلت."

(كتاب الزكاة،باب مكيلةصدقة الفطر،ج:5،ص:51،ط:المكتبة النجارية بالقاهره)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وھی نصف صاع من بر او صاع من شعیر او تمر."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"ودفع القیمة ای الدراھم افضل من دفع العین علی المذھب المفتی به،لان العلة فی افضلیة القیمة کونھا اعون علی دفع حاجة الفقیر."

(باب صدقة الفطر،ج:2،ص:366،ط:ایچ ایم سعید)

  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409100231

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں