بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک میں جمعے والے دن انتقال کر جانے والے کی فضیلت


سوال

میری والدہ کا انتقال چوتھے روزے کو جمعے والے دن ہوا، ہر آدمی نے یہی کہا کے وہ بغیر کسی حساب کتاب کے جنّت میں جائیں گی کیا یہ درست ہے؟ اگر درست ہو تو کوئی حدیث بتا دیں۔

جواب

1:بعض احادیث میں آتا ہےکہ  جس  مسلمان شخص کا جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو انتقال ہوجائے تو وہ قبر کے فتنہ اور آزمائش اور حساب و کتاب سے محفوظ رہتا ہے،اور اسے شہید کے برابر اجروثواب ملتا ہے،اسی لیے علماء نے جمعہ کے دن کے موت کو سعادت و خوش بختی والی موت قرار دیا ہے۔باقی قبر کی یہ آزمائش فقط جمعہ کے دن ہٹائی جاتی ہے یا تاقیامت تو اس کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں کہ  صرف جمعہ کے دن یہ عذاب قبر اٹھا دیا جاتا ہے،اور بعض فرماتے ہیں کہ تاقیامت ان سے قبر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہےاوراللہ کی رحمت سے یہی امید رکھنی چاہیےکہ یہ  تاقیامت عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اورہمیشہ راحت و آرام کے ساتھ رہے گا۔ اور اگر کوئی گناہ گار اور  غیر مسلم  رمضان المبارک میں مر جائے تو صرف ماہ مبارک کے احترام میں رمضان المبارک کے اختتام تک عذاب قبر سے محفوظ رہے گا،اور رمضان کے بعد پھر اسے عذاب ہوگا۔

باقی رہی یہ بات کہ کسی شخص کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کہنا کہ  اس کو عذاب نہیں ہوگا تو یہ درست نہیں ہے۔

قوت المغتدی علی جامع الترمذی للسیوطی میں ہے:

""ما من مسلم يموت يوم الجمعة، أو ليلة الجمعة إلا وقاه الله فتنة القبر".

قال الحكيم الترمذي في نوادر الأصول: " من مات يوم الجمعة فقد انكشف الغطاء عن أعماله عند الله؛ لأن يوم الجمعة لا تسجر فيه جهنم، وتغلق أبوابها، ولا يعمل سلطان النار ما يعمل في سائر الأيام، فإذا قبض الله عبدا من عبيده فوافق قبضه يوم الجمعة كان ذلك دليلا لسعادته، وحسن مآبه، وأنه لم يقبض في هذا اليوم العظيم إلا من كتب الله له السعادة عنده، فلذلك يقيه فتنة القبر لأن سببها إنما هو تمييز المنافق من المؤمن انتهى".قلت: ومن تتمة ذلك: أن من مات يوم الجمعة، أو ليلة الجمعة له أجر شهيد كما وردت به أحاديث، والشهيد، ورد النص بأنه لا يسأل، فكأن الميت يوم الجمعة، أو ليلتها على منواله."

(ابواب الجنائز، ج:1، ص:324، ط:جامعة ام القرى)

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"قلت: ومن تتمة ذلك أن ‌من ‌مات ‌يوم ‌الجمعة له أجر شهيد، فكان على قاعدة الشهداء في عدم السؤال، كما أخرجه أبو نعيم في الحلية عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌من ‌مات ‌يوم ‌الجمعة أو ليلة الجمعة أجير من عذاب القبر، وجاء يوم القيامة وعليه طابع الشهداء» ". وأخرج حميد في ترغيبه عن إياس بن بكير أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " «‌من ‌مات ‌يوم ‌الجمعة كتب له أجر شهيد، ووقي فتنة القبر» ". وأخرج من طريق ابن جرير عن عطاء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «ما من مسلم أو مسلمة يموت في يوم الجمعة أو ليلة الجمعة إلا وقي عذاب القبر وفتنة القبر، ولقي الله ولا حساب عليه، وجاء يوم القيامة ومعه شهود يشهدون له أو طابع» " وهذا الحديث لطيف صرح فيه بنفي الفتنة والعذاب معا. اهـ كلام السيوطي رحمه الله."

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:3، ص:1021، ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100858

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں