بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں عمرہ کے سفر میں روزہ چھوڑنے سے عمرہ کے فضائل حاصل ہوں گے یا نہیں؟


سوال

رمضان المبارک کے مہینے میں عمرہ کرنے والا شخص سفر کی مشقت کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا تو کیا اس شخص کو یہ فضیلت حاصل ہو سکتی ہے جو نبی کریم ﷺ نے حدیثِ مبارک میں بیان فرمائی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ جس شخص نے رمضان المبارک میں عمرہ کیا تو اس کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کرنے جتنا ثواب حاصل ہوگا۔ اور کیا رمضان المبارک کے مہینے میں عمرہ کرنے والے کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت حاصل ہے؟

جواب

اگر عمرہ کے سفر میں کسی ایک جگہ پندرہ دن  تک قیام کا ارادہ نہیں ہے، تو ایسا شخص شرعاً مسافر ہے اور مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے دونوں کا اختیار ہے، چاہے عمرہ کا سفر ہو یا کوئی اور سفر ہو، اور نہ رکھنے کی صورت میں بعد میں اس روزہ کی قضا کرنا لازم ہوگی، تاہم  اگر سفر کے دوران روزہ رکھنے  میں  سہولت ہے، دشواری نہیں  ہے تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے، اگر روزہ رکھنے میں مشقت اور دشواری ہے تو  اس صورت میں روزہ نہ رکھنے کی بھی اجازت ہے اور بعد میں اس روزہ کی قضا کرلے۔

بہرحال اگر سفر کی حالت میں ہونے کی وجہ سے رخصت پر عمل کرتے ہوئے روزہ نہیں رکھا تو اس سے عمرہ کے ثواب اور فضیلت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیوں کہ یہ رخصت اللہ تعالیٰ نے خود دی ہے، اور اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ اس کی رخصت پر بھی عمل ہو، جیساکہ عزیمت کے کام پر عمل اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، لہٰذا عمرہ کے جو فضائل ہیں وہ بہرحال حاصل ہوں گے، رخصت پر عمل کرنے کی وجہ سے عمرہ کے خصوصی یا عمومی فضائل سے محرومی نہیں ہوگی۔

 ''(ويندب لمسافر الصوم) لآية - ﴿ وَأَنْ تَصُوْمُوْا ﴾ [البقرة: 184]- والخير بمعنى البر لا أفعل تفضيل (إن لم يضره) فإن شق عليه أو على رفيقه فالفطر أفضل لموافقته الجماعة''.

(فتاوی شامی (2/ 423) کتاب الصوم، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201328

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں