بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

۱۵ رمضان کو صدقۃ الفطر دینے کا حکم


سوال

 فطرانہ (سرسایہ) کا کوئی وقت مقرر ہے یا رمضان المبارک میں کسی بھی وقت آپ دے سکتے ہیں؟  میں سعودی عرب میں ہوں،  میں نے 15 رمضان المبارک کو فطرانہ پاکستان بھیج دیا ہے۔ میرے ایک عزیز دوست نے مجھے بتایا کہ 27 رمضان المبارک سے پہلے آپ فطرانہ نہیں دے سکتے،  یہ جو پیسے آپ نے بھیجے ہیں، یہ صرف صدقہ ہیں فطرانہ نہیں۔  میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر اپ فطرانہ پہلے دیتے ہیں تو  بہتر ہی ہوگا، جو غریب لوگ ہیں اپنے بچوں کے لیے کچھ خریدیں تو بہتر ہی ہوگا۔ آپ راہ نمائی فرمادیں!

جواب

صدقہ فطر واجب ہونے کا اصل وقت عیدالفطر کے دن صبح صادق  کا وقت ہے، (یعنی جس وقت فجر کا وقت آتا ہے اور سحری کا وقت ختم ہوتاہے) اسی وقت صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔ اور عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کرنا ضروری ہے، اگر عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا تو بعد میں بھی ادا کرنا ہوگا، لیکن بعد میں ادا کرنے  سے اس صدقہ کی فضیلت ختم ہوجائے گی،  نیز عید الفطر کی نماز کے بعد تک تاخیر مکروہ ہے۔

غریب کی ضرورت کو مدنظر رکھ  کر یہ صدقہ عیدالفطر سے پہلے رمضان المبارک میں بھی ادا کیا جاسکتاہے،  جیسا کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں موجود ہے۔

عید کے دن سے پہلے صدقہ فطر  کی ادائیگی کی صورت میں فقہاءِ کرام کے دو طرح کے اقوال کتبِ فقہ میں ملتے ہیں، ایک قول  یہ ہے کہ صدقۂ فطر رمضان المبارک کے مہینے میں کسی بھی دن دینا جائز ہے؛ البتہ رمضان المبارک سے قبل ادا کرنا درست نہ ہوگا۔ جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ صدقہ فطر کا حکم بھی زکاۃ  کی طرح ہے یعنی چاہے رمضان میں ادا کیا جائے یا رمضان سے بھی پہلے ادا کیا جائے دونوں صورتوں میں صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔

بہر صورت آپ نے اگر پندرہ رمضان المبارک میں صدقہ فطر کی رقم ادا کی تو بغیر کسی اختلاف کے صدقہ فطر ادا ہوجائے گا، آپ کے دوست کی بات درست نہیں ہے۔

"وكان ابن عمر رضي الله عنهما يعطيها الذين يقبلونها، وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين". (صحيح البخاري، ۲/۱۳۲، دار طوق النجاة)

ترجمہ : اور حضرت ابن عمرؓ صدقہ فطرانہیں دیتے جو اسے قبول کرتا اور وہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے (صدقۂ فطر) دے دیا کرتے تھے۔

"وجهه أن الوجوب إن لم يثبت فقد وجد سبب الوجوب وهو رأس يمونه ويلي عليه، والتعجيل بعد وجود السبب جائز كتعجيل الزكاة، والعشور وكفارة القتل، والله أعلم". (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ۲/۷۴، دار الکتب العلمیة)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 367):

"(وصح أداؤها إذا قدمه على يوم الفطر أو أخره) اعتبارا بالزكاة والسبب موجود إذ هو الرأس (بشرط دخول رمضان في الأول) أي مسألة التقديم (هو الصحيح) وبه يفتى جوهرة وبحر عن الظهيرية لكن عامة المتون والشروح على صحة التقديم مطلقا وصححه غير واحد ورجحه في النهر ونقل عن الولوالجية أنه ظاهر الرواية. قلت: فكان هو المذهب.

 (قوله: اعتبارا بالزكاة) أي قياسا عليها. واعترضه في الفتح بأن حكم الأصل على خلاف القياس فلا يقاس عليه؛ لأن التقديم، وإن كان بعد السبب هو قبل الوجوب وأجاب في البحر بأنها كالزكاة بمعنى أنه لا فارق لا أنه قياس اهـوفيه نظر والأولى الاستدلال بحديث البخاري وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين قال في الفتح وهذا مما لا يخفى على النبي صلى الله عليه وسلم بل لا بد من كونه بإذن سابق فإن الإسقاط قبل الوجوب مما لا يعقل فلم يكونوا يقدمون عليه إلا بسمع اهـ(قوله: فكان هو المذهب) نقل في البحر اختلاف التصحيح ثم قال لكن تأيد التقييد بدخول الشهر بأن الفتوى عليه فليكن العمل عليه وخالفه في النهر بقوله واتباع الهداية أولى. قال في الشرنبلالية قلت: ويعضده أن العمل بما عليه الشروح والمتون، وقد ذكر مثل تصحيح الهداية في الكافي والتبيين وشروح الهداية. وفي البرهان وابن كمال باشا وفي البزازية الصحيح جواز التعجيل لسنين رواه الحسن عن الإمام اهـوكذا في المحيط. اهـ.

قلت: وحيث كان في المسألة قولان مصححان تخير المفتي بالعمل بأيهما إلا إذا كان لأحدهما مرجح ككونه ظاهر الرواية أو مشى عليه أصحاب المتون والشروح أو أكثر المشايخ كما بسطناه أول الكتاب وقد اجتمعت هذه المرجحات هنا للقول بإطلاق فلايعدل عنه، فافهم".

تاتارخانیة (۳ : ۴۵۲)

"والمختار إذا دخل شهر رمضان یجوز وقبله لایجوز، وفي الظہیریة: وعلیه الفتوی".  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201655

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں