بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

رمضان كا روزہ توڑنے پر کفارہ اداکرنے کی قدرت نہ ہوتو کیاحکم ہے؟


سوال

سوال یہ ہے کہ اگر رمضان کے روزے میں دن کے وقت اگر زنا ہو جائے تو اس وقت کیا کرنا چاہئے؟ کفارہ ادا کرنے کےلیےاس کے پاس 60روزہ رکھنے کی طاقت بھی نہیں ، اور غریب بھی ہے 60مسکینوں کو روٹی بھی نہیں کھلا سکتے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ زنا بہت بڑا گناہ ہے، قرآن و حدیث میں زنا کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے اور زنا کرنے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں نازل ہوئی ہیں۔

حدیثِ مبارک میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول اللهصلى الله عليه و سلم قال: «لا يزني الزاني حين يزني و هو مؤمن، و لا يشرب الخمر حين يشرب و هو مؤمن، و لا يسرق السارق حين يسرق و هو مؤمن، و لا ينتهب نهبة، يرفع الناس إليه فيها أبصارهم هو مؤمن."

(صحيح البخاري ، کتاب الاشربة ، باب لايشرب الخمر۲/۸۳۶ط: قدیمی)

ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:زناكرنے والاايمان كی حالت ميں زنانہيں كرتااوركوئی شخص ایمان کی حالت میں  شراب نہیں پیتا، اورکوئی شخص ایمان کی حالت میں چوری نہیں کرتااورمؤمن ایمان کی حالت میں کوئی لوٹ نہیں مچاتاجس میں اس کی طرف لوگ نظریں اٹھائیں، یعنی بڑی لوٹ نہیں مچاتا ۔(تحفۃ القاری)

اور"کنز العمال" میں ہے کہ شرک کرنے کے بعد اللہ کے نزدیک کوئی گناہ اس نطفہ سے بڑا نہیں جس کو آدمی اُس شرم گاہ میں رکھتا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔ (کنز العمال (5/ 314، رقم الحدیث 12994۔ الباب  الثانی فی انواع الحدود ، ط: موسسہ الرسالۃ)

اور روزے کی حالت میں اس گناہ کی شدت مزید بڑھ جائے گی، اور رمضان المبارک میں جیسے نیک اعمال کا ثواب بڑھ جاتاہے، اسی طرح گناہوں کی قباحت وشناعت بھی مزید بڑھ جاتی ہے، لہٰذا اگر کسی شخص نے رمضان میں روزے کی حالت میں زنا کیا تو اس سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوا، اس شخص پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔،  اس  کا روزہ بھی فاسد ہوگیا ہے، روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں، اور کفارہ یہ ہے کہ مسلسل بلاناغہ ساٹھ روزے رکھنے ضروری ہیں، اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو  دو  وقت  کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا واجب ہوگا، جوان صحت مند آدمی کےلیے کفارے میں روزے چھوڑ کر مسکین کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔اوراگر غربت اورتنگ دستی کی وجہ سے ساٹھ مسکینوں کوکھاناکھلانے پربھی  قادرنہ توپھراللہ تعالی سے بخشش مانگتارہے ۔ امیدہے کہ اللہ تعالی اس کومعاف کردےگا۔ 

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعة، وإن كانت مكرهة فعليها القضاء دون الكفارة."

(الفتاوي الهندية كتاب الصوم ، الباب الرابع فیما یفسد ومالایفسد ۱/۲۰۶  ط: رشیديه)

وفیه ايضا:

"إذا نذر أن يصوم كل خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه كذا في المحيط.ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم، وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم."

( الفتاوی الھندیۃ کتاب الصوم الباب السادس فی النذر  ۱/ ۲٠۹ ط: دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144309100271

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں