بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے آخری جمعہ کو نماز قضاء کرنے کا حکم


سوال

رمضان کے آخری جمعہ میں قضا نماز ادا ہو جائے گی؟

جواب

نماز قضاء کرنے کے لیے کوئی دن مخصوص نہیں ہے، بلکہ جس دن بھی نماز قضاء کی جائے وہ درست ہوجائے گی۔

باقی اگر آپ کی اس سوال سے مراد یہ ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کو ایک مخصوص طریقے سے نماز قضاء کرنے کی صورت میں عمر بھر کی نمازوں کی قضاء ہوجاتی ہے، تو یہ طریقہ بالکل غلط ہے، شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے،  شرعی حکم یہ ہے کہ   جتنی نمازیں کسی سے  فوت ہوئی ہوں، اتنی ہی نمازیں لوٹانا ضروری ہے، اس کے بغیر بری الذمہ نہیں ہوں گے۔

الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ میں ہے:

"حديث

من قضى صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان كان ذلك جابرا لكل صلاة فائتة في عمره إلى سبعين سنة.

باطل قطعا لأنه مناقض للإجماع ‌على ‌أن ‌شيئا ‌من ‌العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات."

(الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة، حديث:519، ص:356، ط: دار الأمانة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507102155

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں