بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1443ھ 05 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے آخری ایام میں مسجد میں نفلی اعتکاف کرنا


سوال

رمضان کے آخری تین  یا چار دن کوئی شخص مسجد  میں نفلی اعتکاف کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

رمضان کے آخری ایام میں مسجد میں نفلی اعتکاف کیا جاسکتا ہے، بلکہ نفلی اعتکاف پورا سال کسی بھی  وقت کیا جاسکتا ہے، نفلی اعتکاف کے لیے کوئی خاص وقت اور مقدار کی شرط نہیں ہے، نفلی اعتکاف کچھ  لمحوں  کا بھی ہوسکتا ہے، نفلی اعتکاف مسجد سے نکلنے کی صورت میں فاسد نہیں ہوتا ، بلکہ جس قدر نفلی اعتکاف کیا جائے اسی میں پورا ہوکر ختم ہوجاتا ہے،  نیز نفلی اعتکاف کرنے کے بعد مسجد سے نکلنا جائز ہے، اس سے اعتکاف ختم ہوجائے گا، پھر دوبارہ مسجد میں آکر از سر نو نفل اعتکاف کی نیت کرکے دوبارہ اعتکاف کیا جاسکتا ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج:2، ص:323، ط:دار الكتاب الإسلامي):

’’(قوله: وأقله نفلا ساعة) لقول محمد في الأصل إذا دخل المسجد بنية الاعتكاف فهو معتكف ما أقام تارك له إذا خرج فكان ظاهر الرواية واستنبط المشايخ منه أن الصوم ليس من شرطه على ظاهر الرواية؛ لأن مبنى النفل على المسامحة حتى جازت صلاته قاعدا، أو راكبا مع قدرته على الركوب والنزول ونظر فيه المحقق في فتح القدير بأنه لا يمتنع عند العقل القول بصحة اعتكاف ساعة مع اشتراط الصوم له وإن كان الصوم لا يكون أقل من يوم وحاصله أن من أراد أن يعتكف فليصم سواء كان يريد اعتكاف يوم، أو دونه ولا مانع من اعتبار شرط يكون أطول من مشروطه ومن ادعاه فهو بلا دليل فهذا الاستنباط غير صحيح بلا موجب فالاعتكاف لايقدر شرعًا بكمية لاتصح دونها كالصوم بل كل جزء منه لايفتقر في كونه عبادة إلى الجزء الآخر ولم يستلزم تقدير شرطه تقديره. اهـ.‘‘

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144209202253

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں