بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک میں افطار کی وجہ سے مغرب کی نماز میں تاخیر کا حکم


سوال

رمضان میں دیر سے مغرب پڑھنے کا شرعی حکم کیا ہے اور کتنے وقت تک امام جماعت پڑھا سکتا ہے؟

جواب

عام دنوں میں مغرب کی نماز کی ادائیگی میں جلدی کرنا افضل ہے، البتہ رمضان المبارک کے مہینے میں افطار کی وجہ سے نماز میں آٹھ، دس منٹ کی تاخیر کی جا سکتی ہے، تاکہ لوگ گھروں سے افطار کرکے جماعت میں شریک ہوسکیں، البتہ اتنی تاخیر کرنا کہ آسمان پر ستارے ظاہر ہوجائیں،  مکروہ تحریمی ہے۔

رد المحتار علي الدر المختار میں ہے:

"(و) أخر (المغرب إلى اشتباك النجوم) أي كثرتها (كره) أي التأخير لا الفعل لأنه مأمور به (تحريما) إلا بعذر كسفر، وكونه على أكل.

(قوله: إلا بعذر إلخ) ظاهره رجوعه إلى الثلاثة أيضا لكن ذكر في الإمداد في تأخير العصر إلى الاصفرار عن المعراج أنه لا يباح التأخير لمرض أو سفر اهـ ومثله في الحلية واقتصر في الإمداد وغيره على ذكره الاستثناء في المغرب، وعبارته إلا من عذر كسفر ومرض وحضور مائدة أو غيم. اهـ."

(كتاب الصلاة، ١ / ٣٦٩، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101803

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں