بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک میں فجر کی اذان میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے


سوال

سحری کا ٹائم جب ختم ہوتا ہے اس کے کتنے منٹ بعد اذان دی جائے؟

جواب

فجر کا وقت صبح صادق کے تحقق کے ساتھ  ہی داخل ہوجاتا ہے، اور صبح صادق کے تحقق سے قبل سحری مکمل کرلینا چاہیے، ماہ رمضان میں عوام کی سہولت کے لیے صبح صادق کے تحقق کے ساتھ ہی اذان فجر دی جاتی ہے، اور یہی درست طریقہ ہے، اگر کہیں تاخیر سے اذان دی جاتی ہو تو ایسی صورت میں صبح صادق سے پہلے پہلے سحری بند کرلینا چاہیے۔ تاہم رمضان میں فجر کی اذان میں تاخیر سے اجتناب کرنا چاہیے، تاکہ عوام الناس کا روزہ  خراب نہ ہو۔

صبح صادق کے تحقق کے حوالے تفصیل دیکھیے:

صبح صادق کے تحقق میں جمہور کے قول ١٨ درجہ زیر افق پر عمل کیا جائے

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200698

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں