بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

رمضان کا استقبال کرنا کیسا ہے ؟ تفصیلی وتحقیقی جواب


سوال

رمضان کا استقبال کرنا کیسا ہے ؟  اگر جائز ہے تو قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب درکار ہے۔

جواب

استقبالِ رمضان سے آپ کی مراد اگر یہ ہے کہ ماہِ رمضان آنے سے پہلے رمضان المبارک کی تیاری کرنا اور صوم و صلوٰۃ کے لیے اپنے آپ کو مستعد رکھنا اور ماہِ رمضان شروع ہونے سے پہلے رمضان کے دوران کی ترتیبات کو مرتب کرلینا اور اس کی اہمیت اور فضیلت کو دل میں اجاگر کرنے کی کوشش کرنا تو واضح رہے کہ یہ اعمال و اہتمام کی کیفیات شریعت میں ممدوح اور مطلوب ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جب ماہِ مبارک آنے والا ہوتا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں اس ماہ کی اہمیت اور فضیلت کو اُجاگر فرماتے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرماتے  اس کے پانے کی كثرت  سے دُعا فرماتے تھے اور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے شوق و محبت سے ماہ رمضان کا استقبال فرماتے،لیکن یاد رہے کہ  مطلق ماہِ شعبان میں رسول اللہ ﷺ کا زیادہ روزے رکھنا بیشمار احادیث میں منقول ہے ،لیکن ماہِ رمضان سے چند دن  (ایک،  دو دن ) پہلے روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ رمضان کا استقبال مکمل نشاط وانبساط اور چستی اور تیاری کے ساتھ کیا جائے ۔ کمزوری اور ضعف واضمحلال کے ساتھ نہیں ۔ 

1: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مبارک مہینے کو خوش آمدید کہہ کر اس کا استقبال فرماتے اور صحابہ کرام سے سوالیہ انداز میں تین بار دریافت کرتے :

مَاذَا يَسْتَقْبِلُکُمْ وَتَسْتَقْبِلُوْنَ؟

’’کون تمہارا استقبال کر رہا ہے اور تم کس کا استقبال کر رہے ہو؟‘‘

2:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! کیا کوئی وحی اترنے والی ہے؟ فرمایا : نہیں۔ عرض کیا : کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ عرض کیا : پھر کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

اِنَّ اﷲَ يَغْفِرُ فِی أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ لِکُلِّ أَهْلِ ھذہ الْقِبْلَةِ.(1)

’’بے شک اﷲ تعالیٰ ماہ رمضان کی پہلی رات ہی تمام اہلِ قبلہ کو بخش دیتا ہے۔‘‘

3: اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جیسے ہی ماہ رجب کا چاند طلوع ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا فرماتے :

:”اللّٰھمَّ باَرِکْ لَنَافِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان“(2)

اے اللہ!ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔

دوسری روایت میں یہ دعا منقول ہے:

اَللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبٍ، وَشَعْبَانَ، وَبَارِکْ لَنَا فِی رَمَضَانَ.(3)

’’اے اللہ! ہمارے لئے رجب، شعبان اور (بالخصوص) ماہ رمضان کو بابرکت بنا دے۔‘‘

4: اُمّ المومنین حضرت عائشہ  رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسلسل دو ماہ تک روزے رکھتے نہیں دیکھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان المعظم کے مبارک ماہ میں مسلسل روزے رکھتے کہ وہ رمضان المبارک کے روزہ سے مل جاتا۔(4)

5:اسی طرح مضمون کے  حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! جس قدر آپ شعبان میں روزے رکھتے ہیں اس قدر میں نے آپ کو کسی اور مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو رجب اور رمضان کے درمیان میں (آتا) ہے اور لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں (پورے سال کے) عمل اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل روزہ دار ہونے کی حالت میں اُٹھائے جائیں۔‘‘(5)

6:علامہ ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ ’لطائف المعارف ‘ میں لکھتے ہیں :

’’ماہ شعبان میں روزوں اور تلاوتِ قرآن حکیم کی کثرت اِس لیے کی جاتی ہے تاکہ ماہ رمضان کی برکات حاصل کرنے کے لئے مکمل تیاری ہو جائے اور نفس، رحمن کی اِطاعت پر خوش دلی اور خوب اطمینان سے راضی ہو جائے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معمول سے اِس حکمت کی تائید بھی ہو جاتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ شعبان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معمول پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’شعبان کے شروع ہوتے ہی مسلمان قرآن کی طرف جھک پڑتے، اپنے اَموال کی زکوۃ نکالتے تاکہ غریب، مسکین لوگ روزے اور ماہ رمضان بہتر طور پر گزار سکیں۔‘‘(6)

احادیث تو اتنی حد تک  رمضان کے استقبال مفہوم  معلوم ہوتا ہے،لیکن  آج کل عالمِ اسلام میں ایک روایت چل پڑی ہے جس کی ابتداء عرب  ممالک خاص کر مصر اور شام سے ہوئی، اور پھر دوسرے ملکوں میں بھی رائج ہوگئی، اور ہمارے یہاں بھی آگئی ہے، وہ یہ ہے کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے کچھ محفلیں منعقد ہوتی ہیں جس کا نام ’’محفل استقبال رمضان‘‘ رکھا جاتا ہے جس میں رمضان سےچند روزپہلے ایک اجتماع منعقد کیا جاتا ہے اور اس میں قرآن کریم اور تقریر اور وعظ رکھا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو یہ بتلانا ہوتاہے کہ ہم رمضان المبارک کا استقبال کر رہے ہیں اور اس کو ’’خوش آمدید‘‘ کہہ رہے ہیں ۔ رمضان المبارک کے استقبال کا یہ جذبہ بظاہر بہت اچھا ہے، لیکن یہی  جذبہ جب آگے بڑھتا ہے تورفتہ رفتہ کے بعد بدعت کی شکل اختیار کرلیتا ہے(7)، چنانچہ بعض جگہوں پر اس استقبال کی محفل نے بدعت کی شکل اختیار کرلی، لیکن رمضان المبارک کا اصل استقبال یہ ہے کہ رمضان آنے سے پہلے اپنے نظامِ الاوقات بدل کر ایسا بنانے کی کوشش کرے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ وقت اللہ جل شانہٗ کی عبادت میں صرف ہو، رمضان کا مہینہ آنے سے پہلے یہ سوچ اپنائی جائے، کہ یہ مہینہ آرہا ہے کس طرح میں اپنی  دنیوی مصروفیات کمکر زیادہ کے زیادہ وقت عبادات میں صرف کیا جائے، اس مہینے میں اگر کوئی شخص اپنے آپ کو بالکلیہ عبادت کے لئے فارغ کرلے تو سبحان اللہ، اگر بالکلیہ اپنے آپ کو فارغ نہیں کرسکتا تو پھر یہ دیکھے کہ کون کون سے کام ایک ماہ کے لئے چھوڑ سکتا ہے ، ان کو چھوڑے، اور کن مصروفیات کو کم کرسکتا ہے ، ان کو کم کرے اور جن کاموں کو رمضان کے بعد تک مؤخر کرسکتا ہے ان کو مؤخر کرے اور رمضان کے زیادہ سے زیادہ اوقات کو عبادت میں لگانے کی فکر کرے، استقبال رمضان کا صحیح طریقہ یہی ہے  اگریہ کام کرلیا تو انشاء اللہ رمضان المباارک کی صحیح روح اور اس کے انوار و برکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے صحیح طور پر فائدہ ہم نہیں اٹھاسکیں گے۔

فرمان الہی ہے:

" شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ." (البقرۃ:آیت:۱۸۵)

ترجمہ:’’(وہ تھوڑے دن) ماہ رمضان ہے جس مین قرآن مجید بھیجا گیا ہے جس کا (ایک) وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لیے (ذریعہ) ہدایت ہے اور (دوسرا وصف) واضح الدلالتہ ہے منجملہ ان (کتب) کے جو (زریعہ) ہدایت (بھی) ہیں اور (حق و باطل میں) فیصلہ کرنے والی (بھی) ہیں سو جو شخص اس ماہ میں موجود ہو اس کو ضرور اس میں روزہ رکھنا چاہیے۔‘‘(بیان القرآن)

" الترغيب والترهيب للمنذري"  میں ہے:

"وعن عبادة بن الصامت رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوما وحضر رمضان أتاكم رمضان شهر بركة يغشاكم الله فيه فينزل الرحمة ويحط الخطايا ويستجيب فيه الدعاء ينظر الله تعالى إلى تنافسكم فيه ويباهي بكم ملائكته فأروا الله من أنفسكم خيرا فإن الشقي ‌من ‌حرم ‌فيه ‌رحمة ‌الله عز وجل:

رواه الطبراني ورواته ثقات إلا أن محمد بن قيس لا يحضرني فيه جرح ولا تعديل."

( الترغيب والترهيب من الحديث الشريف للمنذري (ت ٦٥٦ هـ) ج:2، ص:  60، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

ترجمہ:عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن  فرمایا:  جب رمضان قریب آ رہا تھا ،  تمہارے پاس رمضان آیا، برکتوں کا مہینہ جس میں اللہ تعالیٰ آپ کو  اپنے رحمت سے ڈھانپے گا اور رحمت نازل کرے گا، گناہوں کو مٹا دے گا اور دعاؤں کاقبول کرے  گا، اللہ تعالیٰ اس میں آپ کے مقابلے کو دیکھے گا اور اپنے فرشتوں کے سامنے آپ پر فخر کرے گا، لہٰذا اللہ تعالیٰ کو اپنی طرف سے بہترین چیز دکھائیں، کیونکہ بد بخت ہے وہ جو خدا تعالی کی رحمت  سے اس میں محروم ہے۔" 

(1)وفیہ ایضاً:

" وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌ماذا ‌يستقبلكم ‌وتستقبلون ثلاث مرات فقال عمر بن الخطاب يا رسول الله وحي نزل قال لا قال عدو حضر قال لا قال فماذا قال إن الله يغفر في أول ليلة من شهر رمضان لكل أهل هذه القبلة وأشار بيده إليها فجعل رجل بين يديه يهز رأسه ويقول بخ بخ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا فلان ضاق به صدرك قال لا ولكن ذكرت المنافق فقال إن المنافقين هم الكافرون وليس للكافرين في ذلك شيء رواه ابن خزيمة في صحيحه والبيهقي وقال ابن خزيمة إن صح الخبر فإني لا أعرف خلفا أبا الربيع بعدالة ولا جرح ولا عمرو بن حمزة القيسي الذي دونه قال الحافظ قد ذكرهما ابن أبي حاتم ولم يذكر فيهما جرحا والله أعلم ."

( الترغيب والترهيب من الحديث الشريف للمنذري (ت ٦٥٦ هـ) ج:2، ص:  64، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

ونحوه في (فضائل الأوقات لأحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي الخراساني، أبو بكر البيهقي (ت ٤٥٨هـ)، ص:165، رقم:49، ط: مكتبة المنارة)

(2)"مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار" میں ہے:

"6496- أن النبي صلى الله عليه وسلم: كان إذا دخل رجب قال: اللهم بارك لنا في ‌رجب ‌وشعبان وبلغنا رمضان، وكان إذا كان ليلة الجمعة قال: هذه ليلة عزاء ويوم أزهر" 

(مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار، ج:13، ص:117، رقم:6496، ط:مكتبة العلوم والحكم)

(3)"مسند الإمام أحمد بن حنبل " میں ہے:

"2346 - حدثنا عبد الله، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن زائدة بن أبي الرقاد، عن زياد النميري، عن أنس بن مالك، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل رجب، قال: " اللهم ‌بارك لنا في رجب وشعبان، وبارك لنا ‌في ‌رمضان " وكان يقول: " ليلة الجمعة غراء، ويومها أزهر. " 

( مسند الإمام أحمد بن حنبل، ج:4، ص:180، رقم 2346، ط:مؤسسة الرسالة)

(4)"صحيح البخاري" میں ہے:

"عن أبي سلمة، أن عائشة رضي الله عنها، حدثته قالت: لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شهرًا أكثر من شعبان، فإنه كان يصوم شعبان  كله".

(صحيح البخاري، لأبی عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، ج:2، ص:295، ط: دار ابن كثير، دار اليمامة)

(5)"شرح معاني الآثارللطحاوي"میں ہے:

"3323 - حدثنا يزيد بن سنان ، قال: ثنا عبد الرحمن بن مهدي ، قال: ثنا ثابت ، فذكر بإسناده مثله وزاد قال: " وما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من شهر ، ما يصوم من شعبان ، فقلت: يا رسول الله ، ‌رأيتك ‌تصوم ‌من ‌شعبان ، ما لا تصوم من غيره من الشهور قال هو شهر يغفل الناس عنه ، بين رجب ورمضان ، وهو شهر يرفع فيه الأعمال إلى رب العالمين ، فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم ."

(شرح معاني الآثارللطحاوي (ت ٣٢١ـ)، ج:2، ص:82، رقم:3323، ط: عالم الكتب)

(5)" سنن النسائي" میں ہے:

"2357 - أخبرنا ‌عمرو بن علي، عن ‌عبد الرحمن قال: حدثنا ‌ثابت بن قيس أبو الغصن - شيخ من أهل المدينة - قال: حدثني ‌أبو سعيد المقبري قال: حدثني ‌أسامة بن زيد قال: «قلت: يا رسول الله، لم أرك تصوم ‌شهرا ‌من ‌الشهور ما تصوم من شعبان! قال: ذلك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان، وهو شهر ترفع فيه الأعمال إلى رب العالمين، فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم."

(سنن النسائي، ج:4، ص: 201، رقم:2357، ط: المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة)

(6)"الطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف لابن رجب الحنبلي "میں ہے:

"ولمّا كان شعبان كالمقدمة لرمضان شرع فيه ما يشرع في رمضان من الصّيام وقراءة القرآن؛ ليحصل التّأهّب لتلقّي رمضان، وترتاض النّفوس بذلك على طاعة الرّحمن. روينا بإسناد ضعيف عن أنس، قال: كان المسلمون إذا دخل شعبان أكبّوا على المصاحف فقرءوها، وأخرجوا زكاة أموالهم تقوية للضّعيف ‌والمسكين ‌على ‌صيام ‌رمضان."

(الطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف لابن رجب الحنبلي ص:242، ط:المكتب الإسلامي، بيروت)

(7)فتح الباری میں ہے:

"قال ابن المنير فيه أن المندوبات قد تقلب مكروهات إذا رفعت عن رتبتها."

(فتح الباري، كتاب الآذان، باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال، ج:2، ص:338، ط:دار المعرفة)

 مرقاۃ میں ہے:

"وفيه أن ‌من ‌أصر ‌على ‌أمر ‌مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال."

(كتاب الصلاة، باب الدعاء في التشهد، ج:2 ،ص:946 ،ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)

"فيض الباري شرح الصحيح للبخاري" میں ہے:

"فتلك هي الشاكلة في جميع المستحبات، فإنها تثبت طورا فطورا، ثم الأمة تواظب عليها. نعم نحكم بكونها بدعة إذا أفضى الأمر إلى النكير على من تركها."

(فيض الباري شرح الصحيح للبخاري، كتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلوة، ج:6، ص:225، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

علامہ شاطبی رحمہ اللہ ’’الاعتصام‘‘ میں بدعات کی تعیین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"منها: وضع الحدود كالناذر للصيام قائما لا يقعد ...ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة ... ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة."

( الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها، ج:1، ص:53، ط:دار ابن عفان)

وفیہ ایضاً:

"فإذا ‌ندب ‌الشرع مثلا إلى ذكر الله، فالتزم قوم الاجتماع عليه على لسان واحد وبصوت، أو في وقت معلوم مخصوص عن سائر الأوقات؛ لم يكن في ‌ندب ‌الشرع ما يدل على هذا التخصيص الملتزم، بل فيه ما يدل على خلافه."

(الباب الرابع في مأخذ أهل البدع بالاستدلال، فصل تحريف الأدلة عن مواضعها، ج:1، ص:318، ط:دار ابن عفان)

حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ ’’إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام‘‘ میں لکھتے ہیں:

"إن ‌هذه ‌الخصوصيات بالوقت أو بالحال والهيئة، والفعل المخصوص: يحتاج إلى دليل خاص يقتضي استحبابه بخصوصه. وهذا أقرب........لأن الحكم باستحبابه على تلك الهيئة الخاصة: يحتاج دليلا شرعيا عليه ولا بد........ وقريب من ذلك: أن تكون العبادة من جهة الشرع مرتبة على وجه مخصوص. فيريد بعض الناس: أن يحدث فيها أمرا آخر لم يرد به الشرع، زاعما أنه يدرجه تحت عموم. فهذا لا يستقيم؛ لأن الغالب على العبادات التعبد، ومأخذها التوقيف."

(کتاب الصلاۃ، باب فضل الجماعة ووجوبها، ج:1، ص:200، ط: مطبعة السنة المحمدية)

وفي الشامية :

"لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه ‌فمكروه."

(كتاب الصلوة ،باب صلوة المسافر ،ج:2،ص:120 ،ط:سعيد)

علامہ ابن نجيم مصری حنفی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’البحر الرائق شرح کنز الدقائق‘‘ میں رقم طراز ہیں:

"ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص ‌بوقت ‌دون ‌وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به؛ لأنه خلاف المشروع." 

(كتاب الصلاة، باب العيدين، ج:2، ص:172، ط:دار الكتاب الإسلامي بيروت)

"العقود الدرية في تنقيح فتاوي الحامدية"میں ہے:

"فائدة:كل ‌مباح ‌يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أو وجوبه فهو مكروه كتعيين السورة للصلاة وتعيين القراءة لوقت ونحوه."

(كتاب الفرائض، ج:2، ص:333، ط:دار الكتب المعرفة)

واللہ  اعلم بالصواب۔


فتوی نمبر : 144308102181

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں