بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

رجب کے کونڈے کو کلمہ پڑھ کر کھانے کاحکم


سوال

کیا رجب کے کونڈے کلمہ طیبہ پڑھ کر بھی کھانا حرام اور مکروہ ہے؟

جواب

’’کونڈوں کی مروجہ رسم  بے اصل ، خلافِ شرع اور بدعتِ ممنوعہ ہے کیوں کہ بائیسویں رجب المرجب نہ حضرت اِمام جعفر صادق   رحمہ اللہ علیہ کی تاریخ پیدائش ہے اور نہ تاریخ وفات، حضر ت اِمام جعفر صادق  رحمہ اللہ علیہ کی وِلادت 8رمضان 80 ھ یا 83ھ میں ہوئی اور وفات شوال 148ھ میں ہوئی،  پھر بائیسویں رجب کی تخصیص کیا ہے اور اِس تاریخ کو حضرت اِمام جعفر صادق رحمہ اللہ علیہ سے کیا خاص مناسبت ہے  ؟

 ہاں بائیسویں رجب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی تاریخ ِوفات ہے ،  اِس سے ظاہر ہوتاہے کہ اِس رسم کومحض پردہ پوشی کے لیے حضرت اِمام جعفر صادق   کی طرف منسوب کیاگیاور نہ دَرحقیقت یہ تقریب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں منائی جاتی ہے، جس وقت یہ رسم اِیجاد ہوئی اہلِ سنت والجماعت کا غلبہ تھا، اِس لیے یہ اہتمام کیا گیا کہ شیرینی بطورِحصہ اِعلانیہ نہ تقسیم کی جائے، تاکہ راز فاش نہ ہو، بلکہ دُشمنانِ حضرت معاویہ  خاموشی کے ساتھ ایک دُوسرے کے یہاں جاکر اُسی جگہ یہ شرینی کھالیں جہاں اُس کو رکھا گیا ہے اور اِس طرح اپنی  خوشی ومسرت ایک دُوسرے پر ظاہر کریں ،  جب کچھ اِس کا چرچا ہوا تو اِس کو حضرت اِمام جعفر صادق رحمہ اللہ علیہ کی طرف منسوب کرکے یہ تہمت اِمام موصوف پر لگائی کہ اُنہوں نے خود خاص اِس تاریخ میں اپنی فاتحہ کا حکم دیا ہے، حال آں کہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں، لہٰذا برادرانِ اہلِ سنت کو اِس رسم سے بہت دُور رہنا چاہیے، نہ خود اِس رسم کو بجالائیں اور نہ اِس میں شرکت کریں۔(ماخوذ  فتاوی محمودیہ)

لہٰذا رجب میں کونڈے کی رسم غیر شرعی اور بدعت ہے، اس سے اجتناب لازم ہے،اور کونڈے کا کھانا چاہے اس کو کلمہ طیبہ پڑھ کر کھایاجائے یا بسم اللہ  پڑھ کردونوں صورتوں میں اس سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے لیکن ایسی جگہ پر جاکر رسم میں شرکت کرنا اور کونڈے کھانا درست نہیں ہے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"القاعدة الخامسة: الأمور بمقاصدها

وأرشق وأحسن من هذه العبارة: قول من أوتي جوامع الكلم صلى الله عليه وسلم "إنما الأعمال بالنيات."

(الکلام فی القواعد الفقهیه،ج:1،ص:54،ط:دارالکتب العلمیه)

کفایت المفتی میں ہے:

"یہ کونڈوں کی رسم ایک ایسی ایجاد ہے جس کے لئے شریعت مقدسہ میں کوئی دلیل نہیں ہے لہذا اسے ترک کردینا ضروری ہے (۱) مگر اس کی حقیقت  یہ نہیں کہ وہ کھانا حرام ہوجاتا ہے کھانا تو فی حد ذاتہ مباح ہے ہاں منع کرنے والے کو ان کونڈوں کا کھانا جاکر کھانا مناسب نہیں کہ اس کے اس اقدام سے فی الجملہ رسم کی بھی تائید ہوتی ہے رشتہ داری اور دوستانہ کی وجہ سے بھی جاکر کھانا  مناسب نہیں کہ یہ بھی ایک طرح کی مداہنت ہے ۔"

(کتاب الحظر والاباحت،ج:9،ص:96،ط:دارالاشاعت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144407101791

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں