بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ریتی بجری کے خریدار بتاکر مکس مال بیچنا جائز ہے اور خریدار کو دھوکہ دے کر گھٹیا مال بیچنا جائز نہیں


سوال

 میرا ریتی بجری کا اسٹاک ہے،  جس سے مارکیٹ میں موجود ڈمپر وغیرہ ریتی بجری لوڈ کر کے آگے سپلائی کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مختلف قسم اور مختلف ریٹ کا مال رکھا ہوا ہوتا ہے، تو اکثر اوقات ڈمپر والے کہتے ہیں کہ آگے ہمارا ریٹ کم ہے۔ اور اس لیے وہ ہم سے کہہ  کر سستا والا مال مہنگے مال میں  مکس کروا دیتے ہیں ۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم مارکیٹ میں لوگوں کو 300 فٹ پیمائش بتا کر 250 فٹ دے دیتے ہیں اور ریٹ 300 کا لیتے ہیں،  کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے ڈمپر والوں کے مطالبہ پر ان کو مذکورہ مکس شدہ مال بیچنا یا کسی اور کو بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ جن لوگوں کو مال دے ان کو بتادے کہ یہ مکس شدہ / یا متوسط  درجے کا مال ہے۔  باقی اگر ڈمپر والے اس کو اعلیٰ مال کہہ کر بیچیں گے تو سائل کو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا بلکہ جو لوگ آگے دھوکہ دے رہے ہیں وہی گناہ گار ہوں گے۔

ریتی بجری یا ڈمپر کی 300 فٹ پیمائش بتا کر 250 فٹ کے حساب سے مال دینا اور قیمت 300 فٹ کے اعتبار سے لینا جائز نہیں اس میں خریدار کو دھوکہ دینا لازم آرہا ہے جو شرعاً جائز نہیں۔اور دھوکہ دے کر جو زائد رقم لی جائے وہ بھی حرام ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام 

(قوله؛ لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ

قلت: وفيه نظر؛ لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة، بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة كما في شرب المسكر". 

(كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:5، ص:47، ط:سعيد)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا ‌جعلته ‌فوق ‌الطعام ‌كي ‌يراه ‌الناس، من غش فليس مني".

(کتاب الإیمان، ج:1، ص:99، ط:دار احياء التراث العربى)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى ألا تزر وازرة وزر أخرى هو كقوله ومن يكسب إثما فإنما يكسبه على نفسه وكقوله ولا تكسب كل نفس إلا عليها".

(سورة النجم، ج:5، ص:297، ط:دار احياء التراث العربى)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100116

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں