بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ریلوے کے ادارہ کی پینشن کی مستحق باپ شریک بہن ہوگی یا نہیں


سوال

میرے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سے ایک بھائی تھا میرا۔ پہلی بیوی کے انتقال کے بعد میرے والد نے دوسری شادی کی تھی جن سے چھ بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ پہلی بیوی سے جو میرے والد صاحب کا بیٹا ہے وہ میری بہن کا سوتیلا بھائی کہلائے گا یا سگا بھائی کہلائے گا؟

وضاحت: ۱) یہ مسئلہ اس لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ میرے والد صاحب کی پہلی بیوی کے بیٹے کا انتقال ہوا ہے ۔ وہ پاکستان ریلوے میں ملازم تھا۔ ریلوے قانون کے مطابق مرحوم ملازم کی غیر شادی شدہ بیٹی یا غیر شادی بہن کو پینشن ملتی ہے۔ میرے والد کی دوسری بیوی سے جو ایک بیٹی ہے وہ غیر شادہ شدہ ہے۔ اب پاکستاب ریلوے ان کے نام پینشن جاری نہیں کر رہا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ مذکورہ بیٹی مرحوم کی سوتیلی بہن ہے سگی نہیں ہے لہذا اس کو نہیں ملے گا۔آپ رہنمائی فرمائیں کی مذکورہ بیٹی شرعی لحاظ سے مرحوم بیٹے کی سگی ہے یا سوتیلی ہے؟

۲) پینشن فنڈ کے لیے مرحوم بیٹے کی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی رہی ہے۔ 

۳) میرے والد کی دوسری بیوی اور ان سے ہونے والے چھ  بیٹے اور ایک بیٹی اب تک حیات ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم بھائی  کی باپ شریک بہن (یعنی باپ ایک ہے ماں الگ الگ ہے)  اردو اصطلاح میں سوتیلی بہن کہلائے گی۔ نیز  مرحوم کی مذکورہ باپ شریک بہن لغوی لحاظ سے سوتیلی ہونے کے باوجود شرعا اس کی وارث ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر   اس پینشن فنڈ کی مکمل رقم مرحوم کی تنخواہ سے کٹوتی کی گئی رقم پر  مشتمل ہے تو پھر شرعا اس رقم کے مستحق  مرحوم کے تمام ورثاء اپنے حصوں کے مطابق  ہوں گے( یعنی مذکورہ صورت میں چھ باپ شریک بھائی اور ایک باپ شریک بہن) اور اگر اس فنڈ کی بعض رقم تنخواہ سے کٹوتی شدہ رقم پر مشتمل ہے اور بعض رقم ادارہ کی طرف سے اضافہ ہے تو پھر کٹوتی شدہ رقم کے مستحق تمام ورثاء اپنے حصوں کے مطابق شریک  ہوں گے ( یعنی مذکورہ صورت میں چھ باپ شریک بھائی اور ایک باپ شریک بہن)   اور اضافی رقم  ادارہ کے ضابطہ کے مطابق اس کو ملے گی  جس کو ادارہ نامزد کرےاگر ضابطہ اور قانون  کے مطابق سگی غیر شادی شدہ بہن مستحق ہوتی ہے باپ شریک بہن مستحق نہیں ہوتی تو مذکورہ باپ شریک بہن سوتیلی ہونے کی وجہ سے اضافی رقم کی مستحق نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ."

(کتاب الہبۃ ج نمبر ۴ ص نمبر ۳۷۴،دار الفکر)

مجمع الأنهر  میں ہے:

"(وتنفسخ) الإجارة بلا حاجة إلى الفسخ (بموت أحد العاقدين) أي أحد من الآجر، والمستأجر، وعند الأئمة الثلاثة: لا يبطل بموت أحدهما ولا بموتهما كالبيع ولنا أن المنافع، والإجارات صارت ملكا للورثة، والعقد السابق لم يوجد منهم فينتقض (عقدها لنفسه)."

(کتاب الاجارۃ، باب فسخ الاجارۃ ج نمبر ۲  ص نمبر ۴۰۱،دار احیاء التراث العربی )

فیروز اللغات میں ہے:

سوتیلا: سوت یا سوکن سے تعلق رکھنے والا ۔ اولاد بھائی بہن یا ماں باپ جو اصلی نہ ہوں۔

(ص نمبر ۸۱۸،فیروز سنز)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں