بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

راحم نام رکھنا


سوال

 کیا میں اپنے بیٹے کا نام''راحم"رکھ سکتا ہوں؟

جواب

’’راحم‘‘ کامعنیٰ ہے’’کسی پر مہربانی کرنے والا، شفقت کرنے والا، رحم کرنے والا‘‘۔(القاموس الوحید، رحم، ص:۶۰۹، ط: ادارہ اسلامیات)

مذکورہ  معنیٰ کے لحاظ سے یہ نام رکھنا شرعاً درست ہے۔البتہ عر بی زبان میں ’’راحم ‘‘ کے بجائے ’’رحیم‘‘ کا لفظ زیادہ  استعمال ہوتاہے، اسی لیے بہتر یہ ہے کہ  ’’ رحیم‘‘ نام رکھا جائے۔

تاج العروس میں ہے:

"والرحيم قد يكون بمعنى المرحوم كما يكون بمعنى الراحم، قال عملس ابن عقيل:(فأما إذا عضت بك الحرب عضة ... فإنك معطوف عليك رحيم)."

(رحم، ج: 32، ص: 234، ط: التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101797

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں