بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کو ترک کرنا


سوال

 میں نماز بالکل بھی نہیں پڑھتا اور ہر وقت پریشانی بنی رہتی ہے ، اور قرضہ بہت زیادہ ہے میرے اوپر پلیز میری رہنمائی فرما دیں۔

جواب

علماء اُمت کا اتفاق ہے کہ فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں زنا کرنے، چوری کرنے اور شراب پینے سے بھی بڑا گناہ نماز کا ترک کرنا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر نماز وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرے اور اگر کبھی کوئی نماز وقت پر ادا نہ کرسکے تو اسے پہلی فرصت میں پڑھنی چاہیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ہر نماز کو وقت پر ادا کرنا چاہیے، ہاں! خدا نخواستہ اگر کوئی نماز چھوٹ جائے تو پہلی فرصت میں اس کی قضاء کرنی چاہیے، خواہ بھول کی وجہ سے یا سونے کی وجہ سے یا کسی عذر کی وجہ سے نماز فوت ہوئی ہو یا محض لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے نماز ترک ہوئی ہو، ایک نماز فوت ہوئی ہو یا ایک سے زیادہ یا چند سالوں کی۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں یہ تصور بھی نہیں تھا کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کر کئی دنوں تک نماز نہ پڑے، خیرالقرون میں ایک واقعہ بھی قصداً چند ایام نماز ترک کرنے کا پیش نہیں آیا، بلکہ اس زمانہ میں تو منافقین کو بھی نماز چھوڑنے کی ہمت نہیں تھی، اگر لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے نمازیں ترک ہوئی ہیں تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے اور توبہ واستغفار کا سلسلہ موت تک جاری رکھ کر فوت شدہ نمازوں کی قضاء کرنا لازم ہے، خواہ وہ فوت شدہ نمازوں کو ایک وقت میں ادا کرے یا اپنی سہولت کے اعتبار سے ہر نماز کے ساتھ قضاء کرتا رہے۔

  تمام غموں اور پریشانیوں سے نجات کے لیے، خصوصاً قرض سے نجات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ کو بتلائی ہوئی درج ذیل دعا صبح و شام سات سات بار پڑھیں:

’’اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِ‘‘.

ترجمہ:" یا اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں فکر اور غم سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں کم ہمتی اور سستی سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں بزدلی اور بخل سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں قرض کے غلبہ اور لوگوں کے ظلم و ستم سے۔"

   اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سکھلائی ہوئی درج ذیل دعا ہر فرض نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے پڑھیں، اگر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا غیب سے انتظام فرمادیں گے، ان شاء اللہ:

"اَللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَنْ مَّنْ سِوَاكَ."

ترجمہ:" یا اللہ!  مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام روزی سے بچا لے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔"

سنن ترمذی میں ہے:

’’عن علي رضي الله عنه، أن مكاتبا جاءه فقال: إني قد عجزت عن مكاتبتي فأعني، قال: ألا أعلمك كلمات علمنيهن رسول الله صلى الله عليه و سلم؟ لو كان عليك مثل جبل صير دينا أداه الله عنك، قال: قل: اللهم اكفني بحلالك عن حرامك، و أغنني بفضلك عمن سواك.‘‘

(ابواب الدعوات،ج:5، ص:452، ط: دار الغرب الإسلامي )

قرآن کریم میں نماز کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:

" إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا(اٰیۃ:103)"

ترجمہ:"یقینا نماز مسلمانوں پر فرض ہے اور وقت کے ساتھ محدود ہے۔"(از بیان القرآن)

قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ"(اٰیۃ:43)

ترجمہ:"اور قائم کرو تم لوگ نماز کو (یعنی مسلمان ہو کر) اور دو زکوٰة کو اور عاجزی کرو عاجزی کرنیوالوں کے ساتھ۔"(از بیان القرآن)

ایک اورجگہ ارشاد ہے:

"وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ "(آیۃ:45)

ترجمہ:"اور نماز کی پابندی رکھیے بیشک نماز (اپنی وضع کے اعتبار سے) بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روک ٹوک کرتی رہتی ہے ۔"(از بیان القرآن)

مسند احمد میں  ہے:

"أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌لا ‌تترك ‌الصلاة متعمدا، فإنه من ترك الصلاة متعمدا فقد  برئت منه ذمة الله ورسوله ".

(حدیث ام ایمن،ج:45،ص:357،الرقم:27364،ط:مؤسسۃالرسالۃ)

ترجمہ:" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار کبھی بالارادہ نماز نہ چھوڑنا ، کیوں کہ جس نے دیدہ و دانستہ اور عمداً نماز چھوڑ دی تو اس کے بارہ میں وہ ذمہ داری ختم ہو گئی جو اللہ  اور اس کے رسول کی طرف  صاحب ایمان بندوں کے لیے ہے۔"

البدرالمنير في شرح الكبير  میں ہے:

"عن أبي الدرداء رضي الله عنهما قال: «أوصاني خليلي (: أن لا تشرك بالله شيئا، وإن قطعت وحرقت، وأن ‌لا ‌تترك ‌صلاة ‌مكتوبة متعمدا، فمن تركها متعمدا فقد برئت منه الذمة، ولا تشرب الخمر؛ فإنها مفتاح كل شر."

(كتاب الجنائز،باب تارك الصلاة،ج:5،ص:392،ط:دارالهجرة)

ترجمہ:"حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے خلیل و محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ اللہ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا اگرچہ تمہارے ٹکڑے کر دئیے جائیں اور تمہیں آگ میں بھون دیا جائے ، اور خبردار کبھی بالارادہ نماز نہ چھوڑنا ، کیوں کہ جس نے دیدہ و دانستہ اور عمداً نماز چھوڑ دی تو اس کے بارہ میں وہ ذمہ داری ختم ہو گئی جو اللہ کی طرف سے اس کے وفادار اور صاحب ایمان بندوں کے لیے ہے ، اور خبردار شراب کبھی نہ پینا کیوں کہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے ۔"(از معارف الحدیث)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402101102

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں