بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

رافع وسیم نام رکھنا درست ہے


سوال

کیا بچے کا نام رافع وسیم رکھ سکتے ہیں؟

جواب

وہ اسماء جو اللہ کے صفات خاصہ میں سے نہیں ہیں، بلکہ  وہ اسماء اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کی صفت کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں ان کو صفات  مشترکہ کہا جاتا ہے ان کا حکم یہ ہے اگر قرآن و حدیث، تعامل امت یا عرف عام میں ان اسماء سے غیر اللہ کا نام رکھنا(عبد کی اضافت کی بغیر) ثابت ہو تو ا یسا نام رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں،اور جن صفاتِ مشترکہ سے غیر اللہ کا نام رکھنا قرآن و حدیث اور مسلمانوں کے تعامل سے ثابت نہ ہو تو ان صفات پر کسی شخص کا نام بغیر عبد کی اضافت کے جائز نہیں،  لہذا صورتِ مسئولہ میں رافع بھی اللہ تعالیٰ کا  وہ صفاتی نام ہےجو صفات مشترکہ میں سے ہےاور بعض صحابہ سے یہ نام رکھنا ثابت ہےمثلاًرافع بن خدیج (رضی اللہ عنہ)۔لہذا رافع وسیم نام رکھنا درست ہے۔ 

تحفۃ المودود باحکام المولود میں ہے:

"ومما يمنع تسمية الإنسان به أسماء الرب تبارك وتعالى فلا يجوز التسمية بالأحد والصمد ولا بالخالق ولا بالرازق وكذلك سائر الأسماء المختصة بالرب تبارك وتعالى ولا تجوز تسمية الملوك بالقاهر والظاهر كما لا يجوز تسميتهم بالجبار والمتكبر والأول والآخر والباطن وعلام الغيوب۔۔۔ 

وأما الأسماء التي تطلق عليه وعلى غيره كالسميع والبصير والرؤوف والرحيم فيجوز أن يخبر بمعانيها عن المخلوق ولا يجوز أن يتسمى بها على الإطلاق بحيث يطلق عليه كما يطلق على الرب تعالى".

(الباب الثامن في ذكر تسميته وأحكامها ووقتها، الفصل الثاني فيما يستحب من الأسماء وما يكره منها، ص:125، 127، ط:مکتبة دار البيان)

فتاوی شامی میں ہے:

"وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية". 

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:417، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100648

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں