بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

رب المشرقین و رب المغربین کی تفسیر


سوال

السلام علیکم جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ دنیا میں ایک ہی مشرق اور ایک ہی مغرب ہے۔ اور قرآن پاک میں بھی جابجا ایک ہی مشرق اور مغرب کا ذکر ملتا ہے۔ مگر سورۃ رحمن کی آیت نمبر ۱۷ میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ :سورۃ رحمن آیت نمبر ۱۷ ترجمہ: وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے) اس آیت میں اللہ تعالی دو مشرقوں اور دو مغربوں کو ذکر کر رہا ہے۔ براہ مہربانی اس کا تفصیل سے مدلل جواب عنائت کریں تاکہ میری کم علمی میں اضافہ ہو۔ سکے. والسلام

جواب

قرآن کریم میں لفظ مشرق اور مغرب، واحد، تثنیہ اور جمع تینوں صیغوں میں استعمال ہوا ہے، واحد کا صیغہ سورہ مزمل میں::رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاتثنیہ کا صیغہ سورہ رحمٰن میں:رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِاور جمع کا صیغہ سورہ معارج میں آیا ہے:فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِچونکہ ہر روز سورج کا مطلع بدلتا رہتا ہے، ہر نئے روز سورج کے نکلنے اور اسی طرح غروب ہونے کی جگہ گزشتہ روز کی جگہ سے مختلف ہوتی ہے، چنانچہ اس آیت میں جمع کے صیغہ سے تعبیر فرمایا۔ اور واحد کے صیغوں میں جنس مشارق اور مغارب مراد ہے۔ اور جس آیت میں تثنیہ کے صیغے استعمال ہوئے ہیں وہاں مشرقین اور مغربین سے مراد خاص گرمی اور سردی دو موسموں کے مشرق اور مغرب مراد ہیں۔ کذا فی تفسیر ابن کثیر (492/7، ط: دار طیبۃ للنشر و التوزیع)۔تفسیر معارف القرآن میں ہے:" سردی اور گرمی میں آفتاب کا مطلع بدلتا رہتا ہے، اس لیے سردی کے زمانے میں مشرق یعنی آفتاب کے نکلنے کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی کے زمانے میں دوسری، انہی دونوں جگہوں کو آیت میں مشرقین سے تعبیر فرمایا ہے، اسی طرح اس کے بالمقابل مغربین فرمایا، کہ سردی میں غروب آفتاب کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی میں دوسری۔" (ص:247، ج:8، ط:دار الاشاعت)


فتوی نمبر : 143502200018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں