بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

رات میں آنکھ کھلنے کے وقت منہ سے بدبو آنے کی صورت میں ذکر و دعا اور درود شریف وغیرہ پڑھنے کا حکم


سوال

رات کو اکثر  آنکھ  کھل جاتی ہے  اور سونے کی وجہ سے منہ سے بدبو آتی ہو  تو کیا اس حالت میں دعا، ذکر درود شریف وغیرہ پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

1۔ ذکرِ الٰہی کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ انسان کا منہ بدبو وغیرہ سے پاک صاف ہو، لہذا ادب کا تقاضہ یہی ہے کہ ذکرِ الہٰی، درود و استغفار کے وقت منہ سے بدبو نہ اٹھتی ہو؛ اور اگر کسی چیز کے کھانے سے منہ میں بدبو  آئے تو ذکر و دعا اور درود وغیرہ کرنا مکروہ ہے،  نیز اس میں اعمال لکھنے والے فرشتوں کی ایذا بھی ہے،البتہ زبان سے  تلفظ  کیے بغیر دل دل میں ہی پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن زیادہ اچھا یہ ہے کہ منہ دھو کر زبان سے ہی ذکر و تلاوت کی جائے، کیونکہ تلاوت وغیرہ کا اصل ثواب زبان سے پڑھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے، اس لیے سونے سے پہلے مسواک وغیرہ کر کے سونا چاہیے؛ تاکہ رات میں آنکھ  کھلنے کے وقت منہ سے بدبو نہ آئے، بہرحال اگر رات کو کسی وقت آنکھ  کھلے اور منہ میں معدہ سے اٹھنے والی بو ہو، جو عام طور پر بہت سے لوگوں کے منہ میں ہوتی ہے، یعنی غیر معمولی بدبو نہ ہو تو اس حالت میں ذکر کی گنجائش ہے، تاہم اگر منہ سے اٹھنے والی بدبو غیر معمولی ہو تو منہ دھوکر یا مسواک وغیرہ کر کے ہی ذکر و دعا وغیرہ کی جائے، تاہم اگر اٹھنے کی بالکل ہمت نہ ہو تو ذکر و دعا چھوڑنے کے بجائے اسی حالت میں جو توفیق ہو پڑھ کر سوجائے۔ لیکن جو اذکار و دعائیں باقاعدہ معمول کا حصہ ہوں ان کو تو منہ دھوکر  بلکہ باوضو ہوکر اہتمام سے کرنا چاہیے۔

الاذکار النوویۃ  میں ہے :

"فصل : وينبغي أن يكون الموضع الذي يذكر فيه خالياً نظيفاً، فإنه أعظم في احترام الذكر المذكور، ولهذا مدح الذكر في المساجد والمواضع الشريفة. وجاء عن الإمام الجليل أبي ميسرة رضي الله عنه قال : (لايذكر الله تعالى إلا في مكان طيب) وينبغي أيضاً أن يكون فمه نظيفاً، فإن كان فيه تغير أزاله بالسواك، وإن كان فيه نجاسة أزالها بالغسل بالماء، فلو ذكر ولم يغسلها فهو مكروه ولايحرم ، ولو قرأ القرآن وفمه نجس كره، وفي تحريمه وجهان لأصحابنا : أصحهما لايحرم."(1/12)

شرح حصن المسلم میں ہے :

"ومن آدابه: أن يكون فمه نظيفاً، فإن كان فيه تغيّر أزاله بالسواك، وبالغسل بالماء". (1/30)

2۔دل ہی دل میں ذکر کیاجاسکتاہے۔المجموع شرح المہذب میں ہے :

"(الثالثة) يجوز للجنب والحائض النظر في المصحف وقراءته بالقلب دون حركة اللسان وهذا لا خلاف فيه".(2/163) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں