بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1441ھ- 11 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کا کان چھلا ہوا ہو


سوال

جانور خرید کر گھر لے آیا تو پتا چلا کہ کان درمیان میں  چھلا  ہوا ہے اب اس کی قربانی کی جا سکتی ہے؟

جواب

قربانی کے جانور کا کان اگر ایک تہائی ( 1/3 ) سے کم کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، اگر اس سے زیادہ ہو تو قربانی درست نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر جانور کا کان کٹا ہوا نہیں، بلکہ درمیان سے صرف چرا ہوا ہے تو یہ قربانی کے لیے مانع نہیں ہے، قربانی درست ہوگی۔ اور اگر کان چھلنے سے مراد کان کٹنا ہے تو اگر کان ایک تہائی سے کم چھلا ہوا ہے تواس کی قربانی  درست ہے، اور اگر ایک تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہے تو قربانی درست نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وفی الجامع انه اذا کان ذهب الثلث او اقل جاز وان کان اکثر لا یجوز،والصحیح ان الثلث وما دونه قلیل وما زاد علیه کثیر وعلیه الفتوی۔(ج:5، ص:298۔ط:رشیدیه)   فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144112200157

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں