بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کی کھال کا حکم


سوال

قربانی کے جانور کا چمڑا بھی کیا قربانی کا حصہ ہوتا ہے اگر  قربانی کے جانور کا چمڑا بھی قربانی کا حصہ ہوتا ہے تو اسے کیسا استعمال کیا جائے؟

جواب

قربانی کی کھال کا وہ حکم ہے جو اس کے گوشت کا حکم ہے،  کھال جب تک موجود ہو تو قربانی کرنے والے کو اس میں تین قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں: (1) خود استعمال کرنا۔ (2) کسی کو ہدیہ کے طور پر دینا۔ (3) فقراء اور مساکین پر صدقہ کرنا۔البتہ اگر کوئی خود استعمال کرنا چاہتا ہے تو استعمال کر سکتا ہےکہ دباغت کے ذریعے پاک کرکے اسے جائے نماز وغیرہ بنا لی جائے اور نماز پڑھنے کے لیے استعمال کی جائے، یا کنویں سے پانی نکالنے کےلیے ڈول وغیرہ بنا لیا جائے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويتصدق بجلدها أو يعمل منه نحو غربال وجراب، ولا بأس بأن يشتري به ما ينتفع بعينه مع بقائه استحسانا وذلك مثل ما ذكرنا".

(الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها، ج: ۱، صفحہ: ۳۰۱، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100970

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں