بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے بجائے غریب رشتہ دار کی مدد کرنا


سوال

میرے ایک بہت قریبی خاندانی  شخص کے مالی حالت بہت خراب ہیں کہ کھانے تک  کے پیسے نہیں ہیں ،لیکن ان کے حالات صرف انہی کو پتہ ہیں یا جو ان کے بہت زیادہ قریب ہیں اور مجھے  ان کے حالات کا علم ہے،کیا میں نے جو اس سال قربانی کے پیسے رکھے ہیں، میں ان پیسوں سے ان کی مدد کرسکتا ہوں؟ ،میں اگر ان کی مدد کروں  تو میں قربانی نہیں کر سکوں گا ، مگر میں ان کو ایسے حالات میں بھی نہیں دیکھ سکتا۔

 

جواب

واضح رہے کہ  جس شخص پر قربانی واجب ہو  اس کے لیے قربانی چھوڑ کر قربانی کی رقم کسی فقیر کو دے دینا شرعاً درست نہیں ہے، اس طرح کرنے سے قربانی ادا نہیں ہوگی اور  ایسے شخص  کو اگر چہ صدقہ کرنے کا ثواب تو مل جائے گا، لیکن واجب قربانی چھوڑنے پر گناہ  گار ہوگا، قربانی کرنا ایک مستقل  واجب عبادت ہے، اور غریب کی مدد کرنا ایک  دوسری  عبادت ہے جوکہ نفل ہے اور نفل عبادت کو بنیاد بنا کر کسی دوسری واجب عبادت کو چھوڑنا کوئی معقول  بات نہیں،دونوں نیکیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے،لیکن اگر ممکن نہ ہو تو واجب کو ترجیح دینا چاہئے۔

لہذا اگر سائل پر قربانی واجب ہے تو وہ اپنی قربانی کرے، مذکورہ رشتہ دار کی مدد از خود اور دیگر اہلِ خیر کے ذریعہ کرنے کی کوشش کرے، لیکن اگر سائل پر قربانی واجب نہیں ہے اور وہ اپنےمذکورہ رشتہ دار کی جمع کی ہوئی رقم سے ہی مدد کرنا چاہتا ہے تو اس کی بھی گنجائش ہوگی۔

حدیث شریف میں ارشاد نبوی منقول ہے کہ خدا تعالی کے ہاں عید الاضحی کے ایام میں خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے۔ ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ جو شخص قربانی کی استطاعت رکھتا ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب (عید کی نماز) پڑھنے ہی نہ آئے، ان دونوں احادیث سے قربانی کی اہمیت خوب واضح ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ قربانی ہر اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس قربانی کے ایام میں ضرورت اور استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔

وفي الفتاوى الهندية :

"ومنها أنه لا يقوم غيرها مقامها في الوقت، حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزئه عن الأضحية."

(كتاب الأضحية,الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها,5/ 293ط:دار الفكر)

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"(فتجب) التضحية...(على حر مسلم مقيم) بمصر أو قرية أو بادية عيني، فلا تجب على حاج مسافر؛ فأما أهل مكة فتلزمهم وإن حجوا، وقيل لا تلزم المحرم سراج (موسر) يسار الفطرة (عن نفسه لا عن طفله) على الظاهر، بخلاف الفطرة (شاة) بالرفع بدل من ضمير تجب أو فاعله (أو سبع بدنة) هي الإبل والبقر... (فجر) نصب على الظرفية (يوم النحر إلى آخر أيامه) وهي ثلاثة أفضلها أولها."

 (كتاب الأضحية,رد المحتار6/ 313ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144311102113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں