بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جسے قربانی کا حصہ دیا گیا ہو کیا وہ اسے تقسیم کرے گا؟


سوال

کسی نے اپنی فیملی ممبر میں سے ہر فرد کے لیے قربانی میں حصہ لیا. اور ایک پورا حصہ انہوں نے اپنی بہو کی والدہ کو بھیج دیا کیونکہ وہ بیوہ ہیں. تو پوچھنا یہ تھا کہ وہ بیوہ اس گوشت کو تقسیم کیسے کرے؟ آیا پورا اپنے پاس رکھ لے یا جیسے عام طور پر تقسیم کیاجاتاہے اس طرح تقسیم کرے؟ 

جواب

جو شخص قربانی کا فریضہ انجام دے اس کے لیے اپنی قربانی کے گوشت کی تقسیم کا  بہتر  طریقہ یہ ہے کہ  اس کے تین حصے کرلیے جائیں ، ایک حصہ غرباء کو دے دیا جائے اور ایک حصہ رشتہ داروں کواور ایک حصہ  قربانی کرنے والا خود رکھے۔

اور اگر کسی شخص پر قربانی واجب نہیں ، اسے قربانی کا کچھ گوشت دیاگیایا مکمل حصہ کا گوشت دے دیا گیا تو اس کے حق میں  یہ ایک طرح کا ہبہ اور ہدیہ ہے، اوریہ سارا گوشت جو اسے ملا ہے اس کی ملکیت ہے،اس کے لیے اس گوشت کو تقسیم کرنالازم نہیں ، بلکہ سارا گوشت ضرورت ہوتو خود رکھ سکتا ہےاور اگر اس میں سے کچھ تقسیم کرنا چاہے تو بھی اجازت ہے۔

لہذا مذکورہ بیوہ عورت جسے بیٹی کے سسر کی جانب سے ایک مکمل حصے کا گوشت بھیجا گیا ، اس عورت کے لیے مکمل گوشت اپنے پاس رکھنے کی اجازت ہے ، تین حصے کرکے تقسیم کرنا لازم نہیں،   البتہ اگر ضرورت سے زائد ہونے کی وجہ سے وہ اس میں سے کچھ تقسیم کرنا چاہیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔

'عن سلمة بن الأكوع قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: من ضحى منكم فلا يصبحنّ بعد ثالثة وبقي في بيته منه شيء، فلمّا كان العام المقبل قالوا: يا رسول الله، نفعل كما فعلنا عام الماضي؟ قال: كلوا وأطعموا وادخروا؛ فإن ذلك العام كان بالناس جهد، فأردت أن تعينوا فيها'.(صحیح البخاري:۲؍۸۳۵، رقم الحدیث:۵۵۶۹، کتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي وما يتزود منها)

"والأفضل أن یتصدق بالثلث، ویتخذ الثلث ضیافة لأقربائه وأصدقائه، ویدخر الثلث، ویستحب أن یأکل منها،ولو حبس الکل لنفسه جاز". (ردالمحتار على الدرالمختار، کراچی ۶؍۳۲۸)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201622

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں