بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور اور چھری کو ہاتھ لگانے کا حکم


سوال

کیا جس کے نام کی قربانی ہو اس کا جانور یا چھری کو ہاتھ لگانا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس کی قربانی ہو اگر وہ ذبح کرنا جانتا ہے تو افضل اور بہتر  یہ ہے کہ  وہ اپنے قربانی کے جانور کو خود ذبح کرے ، اور اگر خود ذبح کرنا نہیں جانتا تو کسی سے ذبح کروائے اور ذبح ہونے کے وقت خود   کا وہاں موجود رہنا مستحب ہے، جانور یا چھڑی کو ہاتھ لگانا  ضروری نہیں ۔

الترغیب والترھیب میں ہے:

"عن علي ولفظه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا فاطمة قومي فاشهدي أضحيتك فإن لك بأول قطرة تقطر من دمها مغفرة لكل ذنب أما إنه يجاء بلحمها ودمها توضع في ميزانك سبعين ضعفاقال أبو سعيد يا رسول الله هذا لآل محمد خاصة فإنهم أهل لما خصوا به من الخير أو للمسلمين عامة قال لآل محمد خاصة وللمسلمين عامة".

(‌‌كتاب العيدين والأضحية الترغيب في إحياء ليلتي العيدين ج: 2 ص: 100 ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"والأفضل أن يذبح أضحيته بيده إن كان يحسن الذبح؛ لأن الأولى في القربات أن يتولى بنفسه، وإن كان لا يحسنه فالأفضل أن يستعين بغيره ولكن ينبغي أن يشهدها بنفسه، كذا في الكافي".

(كتاب الأضحية ، الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها ج: 5 ص: 300 ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100511

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں