بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور میں عقیقہ کا حکم


سوال

بکرے یا بکری کے علاوہ کسی اور جانور  میں  عقیقہ کر سکتے ہیں ؟

جواب

واضح رہےکہ چھوٹے جانور میں یا  بڑے جانور کے صرف ایک  حصے میں شرعاً صرف  ایک  ہی نیت کی جاسکتی ہے، خواہ قربانی کی نیت  ہو یا  عقیقہ کی، ایک حصے میں  اور چھوٹے جانور میں دو نیتیں (قربانی اور عقیقہ کی) درست نہیں ۔

صورت مسئولہ میں قربانی کے بڑے  جانور (اونٹ، گائے، بھینس وغیرہ) کے سات حصوں میں قربانی کے حصہ کے علاوہ عقیقہ کی نیت سے مستقل حصہ شامل کیا جاسکتا ہے، جو حصہ عقیقہ کی نیت کا ہوگا وہ عقیقہ شمار ہوگا، باقی حصے قربانی کے شمار ہوں گے،لہذا قربانی کے ساتھ عقیقہ کرتے ہوئے  قربانی کی گائے وغیرہ  میں لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ رکھنا  مستحب ہے،اور چھوٹے جانور (بکرے وغیرہ) میں ایک ہی نیت (قربانی ، یا عقیقہ)کی جائے گی ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے :

"فلا ‌يجوز ‌الشاة ‌والمعز ‌إلا ‌عن ‌واحد وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس".

(کتاب التضحیۃ،70/5،دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے :

"وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد".

(  کتاب الاضحیة،6/ 326، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100891

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں