بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کے جانور کے دودھ کا مصرف


سوال

قربانی کرنے والے کے علاوہ اس کے گھر والے قربانی کا دودھ استعمال کرسکتے ہیں، جب کہ وہ غریب ہوں، راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ قربانی کی نیت سےخریدا گیا جانور چوں کہ قربتِ واجبہ میں سے ہے،  لہذا ایسے جانور سے کسی بھی طرح  کانفع اٹھانادرست نہیں، اورنہ ہی اس کادودھ دوہیا جاسکتاہے،اگر ایسے جانور سے نفع اٹھایا گیا یعنی دودھ دوہیا گیا تو اس کا مصرف عام صدقاتِ واجبہ کی طرح فقراء ومساکین ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر قربانی کے جانور کے تھنوں میں دودھ اتر آئے اور قربانی میں وقت کم ہو تو بہتر یہ ہے کہ دودھ نہ دوہیا  جائےبلکہ تھنوں پر ٹھنڈا پانی ڈال کر اس کو روکا جائے، اور اگر قربانی کے لئے کافی وقت ہو اور دودھ نہ دوہنے کی صورت میں جانور کو تکلیف ہو اس وجہ سے دودھ نکال لیا گیا یا کسی نے لاعلمی میں دودھ دوہ لیا تو اسےاپنے اہل وعیال کے علاوہ دوسرے فقراء کو صدقہ کردے، اپنے ہی گھر والے مثلاً والدین بال بچوں کو نہ دیں، البتہ بھائی بہن اگر شریک نہیں ہے تو ان کو دیا جاسکتا ہے۔

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع  میں ہے :

"المشتراة للأضحية متعينة للقربة إلى أن يقام غيرها مقامها فلا يحل الانتفاع بها ما دامت متعينة ولهذا لا يحل له لحمها إذا ذبحها قبل وقتها، فإن كان في ضرعها لبن - وهو يخاف عليها إن لم يحلبها - نضح ضرعها بالماء البارد حتى يتقلص اللبن لأنه لا سبيل إلى الحلب ولا وجه لإبقائها كذلك لأنه يخاف عليها الهلاك فيتضرر به فتعين نضح الضرع بالماء البارد لينقطع اللبن فيندفع الضرر فإن حلب تصدق باللبن لأنه جزء من شاة متعينة للقربة ما أقيمت فيها القربة فكان الواجب هو التصدق به، كما لو ذبحت قبل الوقت فعليه أن يتصدق بمثله لأنه من ذوات الأمثال، وإن تصدق بقيمته جاز لأن القيمة تقوم مقام العيین".

(کتاب التضحیۃ، فصل في بيان ما يستحب قبل التضحية وبعدها وما يكره، ج:5، ص:78،  دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101559

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں