بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے گوشت سے ولیمہ کر نے کاحکم


سوال

کیا میں قربانی کے گوشت  سے جو کہ تیسرا حصہ میرا ہے  اپنے بیٹے کا ولیمہ کر سکتا ہوں۔

جواب

صورت مسئولہ میں عیدالاضحی کی قربانی  کا گوشت ولیمہ کے مہمانوں کو  دعوت کے طور پر کھلا یا جاسکتا ہے، اور اگر اس نیت سے بڑے جانور میں   ایک حصہ رکھ  لیا جائے تواس سے  قربانی باطل نہیں ہوگی، البتہ ایک حصہ میں دو نیتیں نہ کریں، بلکہ اگر ایک حصہ کررہے ہیں تو قربانی کی نیت سے جانور ذبح کرلیں اور بعد میں اس کا گوشت ولیمہ کے مہمانوں کی دعوت میں صرف کردیں، اگر ایک سے زائد حصے ہوں تو ان میں بھی بہتر ہے کہ قربانی کی نیت سے ہی جانور ذبح کیا جائے، پھر اس کا گوشت ولیمہ وغیرہ کی دعوت میں استعمال کرلیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قد علم أن الشرط قصد القربة من الكل، وشمل ما لو كان أحدهم مريداً للأضحية عن عامه وأصحابه عن الماضي تجوز الأضحية عنه ونية أصحابه باطلة وصاروا متطوعين، وعليهم التصدق بلحمها وعلى الواحد أيضاً؛ لأن نصيبه شائع كما في الخانية، وظاهره عدم جواز الأكل منها، تأمل، وشمل ما لو كانت القربة واجبةً على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافاً لزفر، لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قدولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد ولم يذكر الوليمة. وينبغي أن تجوز؛ لأنها تقام شكراً لله تعالى على نعمة النكاح ووردت بها السنة، فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة. وروي عن أبي حنيفة أنه كره الاشتراك عند اختلاف الجهة، وأنه قال: لو كان من نوع واحد كان أحب إلي، وهكذا قال أبو يوسف".

 (کتاب الاضحیہ ،326/6،سعید)

وفیہ ایضاً:

" ویأکل من لحم الأضحیة، ویؤکل غنیاً". وتحته في الشامیة: "هذا في الأضحیة الواجبة والسنة سواء إذا لم تکن واجبة بالنذر."

( کتاب الأضحیة،   327/6،سعید)

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102082

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں