بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے بکرے کی بدبو کو انجیکشن سے دور کرنے کا حکم


سوال

قربانی کے بکرے میں جو بُو ( نر ہونے کی وجہ سے ) ہوتی ہے وہ انجیکشن کے ذریعے ختم کروائی جاتی ہے ،تو اس طرح کے عمل کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ    جس بکرے کے گوشت میں پیشاب پینے کی وجہ سے بدبو پیدا  ہوگئی ہو تو  جب تک اس کے گوشت میں بدبو باقی رہے، اس کا گوشت مکروہ ہے،  تاہم چوں کہ وہ دوسری صاف غذا بھی کھاتا ہے؛ اس لیے  اگر اس کی قربانی کرلی گئی تو قربانی جائز ہوگی،ایسی صورت میں اس کو اتنے دن تک اس طرح باندھ کر رکھا جائے کہ وہ پیشاب نہ پی سکے اور اس کے گوشت کی بدبو ختم ہوجائے  تو پھر اس کا گوشت کھانے  میں کراہت نہیں ہوگی، اسی طرح اگر بدبو کو  کسی حلال دوا  وغیرہ کے ذریعے سے بھی دور کیا جاۓ تو بھی درست ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما بيان ما يكره من الحيوانات فيكره أكل لحوم الإبل الجلالة وهي التي الأغلب من أكلها النجاسة لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن أكل لحوم الإبل الجلالة ولأنه إذا كان الغالب من أكلها النجاسات تتغير لحمها وينتن فيكره أكله كالطعام المنتن....

ثم ليس لحبسها تقدير في ظاهر الرواية هكذا روي عن محمد رحمه الله أنه قال: كان أبو حنيفة رضي الله عنه لا يوقت في حبسها وقال تحبس حتى تطيب وهو قولهما أيضا، وروى أبو يوسف عن أبي حنيفة عليه الرحمة أنها تحبس ثلاثة أيام، وروى ابن رستم رحمه الله عن محمد في الناقة الجلالة أو الشاة والبقر الجلال أنها إنما تكون جلالة إذا تفتتت وتغيرت ووجد منها ريح منتنة فهي الجلالة حينئذ لا يشرب لبنها ولا يؤكل لحمها، وبيعها وهبتها جائز، هذا إذا كانت لا تخلط ولا تأكل إلا العذرة غالبا فإن خلطت فليست جلالة فلا تكره؛ لأنها لا تنتن."

(كتاب الذبائح والصيود،فصل في بيان ما يكره من الحيوانات،39،40/5،ط:دار الكتب العلمية)

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

" والأصلح أنها تحبس إلى أن تزول الرائحة المنتنة عنها؛ لأن الحرمة لذلك، وهو شيء محسوس، ولا يتقدر بالزمان لاختلاف الحيوانات في ذلك فيصار فيه إلى اعتبار زوال المضر، فإذا زال بالعلف الطاهر حل تناوله، والعمل عليه بعد ذلك."

(كتاب الصيد،لحوم الإبل الجلالة والعمل عليها،255،56/11،ط:دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412100523

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں