بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کس پر واجب ہے؟


سوال

 ایک بندہ جو ملازم ہے، اور شادی شدہ ہے، فیملی  جوائنٹ ہے،اور والد  کی پینشن بھی ہے،دونوں گھر کا خرچہ چلارہے ہیں، جو ملازم یعنی بیٹاہےاس کے پاس پانچ لاکھ تک بینک بیلنس بھی ہے،مگر جو بھی چیز خریدتاہے والدسے پوچھ کر اور مشورہ کرکے خریدتاہے،یعنی والدکی اجازت کے بغیر پیسے خرچ نہیں کرتاہے، اب باپ بیٹا دونوں الگ الگ قربانیاں کریں گے یا باپ کا قربانی کرنا کافی ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی  کا نصاب وہی ہے جو صدقہ فطر کا ہے ،یعنی ہر وہ شخص جس کے پاس    حوائج اصلیہ (رہائش کا مکان ،سواری ،کھانے پینے کا سامان ،استعمال کے کپڑے  وغیرہ)سے زائد نصاب کے بقدر یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا  ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر نقد رقم  یادوسرا سامان   ہو،اس پر قربانی    واجب ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں  چوں کہ بیٹا تو پانچ لاکھ نقد رقم کا مالک ہے اس لیے اس پر قربانی واجب ہے ،اور اگر والد کے پاس ضرورت اصلیہ  سے زائد اشیاء کے علاوہ نصاب کے بقدر رقم  یا مال موجود ہے تو والد  پربھی  قربانی واجب ہے، صرف والد کی قربانی کر لینا بیٹے کے لیے کافی نہیں ہو گا ۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة۔"

(کتاب الاضحیہ،ج:5،ص:292،ط:رشیدیہ)

وفیہ ایضاً:

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار۔"

(کتاب الصوم ،باب صدقۃ الفطر ،ج:1،ص:191،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144411101833

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں