بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الاول 1443ھ 27 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی نیت سے خریدے ہوئے بکرے کو فروخت کرنے کے بعد گائے میں حصہ لینا


سوال

اگر  کسی  کے  پاس  خصی (بکرا)ہے جو  قربانی کی نیت سے رکھا ہو، لیکن نا دانی  کی وجہ سے اسے  بیچ  دیا ہو،  اب  اس  پیسے  سے  دوسرا  مل بھی  نہیں رہا ہے اور   اگر گائے میں حصہ لے رہے ہیں تو  کچھ پیسے  بچ  رہے ہیں ، ایسی صورت میں بچے  ہوئے  پیسوں کا کیا کرے؟  کیا اپنے کام میں استعمال کیا جا سکتا ہے یاکیاحکم ہےاُس پیسےکا ؟

جواب

اگر مال دار آدمی یعنی صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کا جانور قربانی کی نیت سے لیا  تو اس کے لیے اس کو فروخت کرنا مناسب نہیں ہے، اور اگر وہ غریب شخص ہے تو اس کے لیے اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، اگر فروخت کردیا ہو تو  پھر اس کے بعد دوسرا جانور اس سے کم قیمت کا نہ خریدے، اگر دوسرا جانور پہلے سے کم قیمت پر لیا تو  پہلے اور دوسرے جانور کی قیمت میں جتنا فرق ہو وہ صدقہ کردینا ضروری ہے۔

لہذ ا صورتِ مسئولہ میں   قربانی کی نیت سے خریدے ہوئے بکرے کو فروخت کرنے کے بعد اگر گائے  میں ایک حصہ قربانی  کے لیے رکھ لیا تو اس میں جو رقم اضافی بچ جائے اس کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔

البتہ  یہ  حکم اس صورت میں ہے کہ  جانور  (یعنی صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خصی بکرا) خریدتے وقت قربانی کی نیت تھی ، اگر   جانور خریدتے وقت قربانی کی نیت نہیں تھی، بلکہ خریدنے کے بعد اس میں قربانی کی نیت کرلی  یا اس ارادے سے لیا کہ اچھی قیمت لگے گی تو بیچ کر نفع  کماؤں  گا   ورنہ  قربانی کرلوں گا  تو اس جانور  کو بیچنا اور اس کا نفع حاصل کرکے خود استعمال کرنا سب جائز ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 294):

’’رجل اشترى شاة للأضحية وأوجبها بلسانه، ثم اشترى أخرى جاز له بيع الأولى في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -، وإن كانت الثانية شرا من الأولى وذبح الثانية فإنه يتصدق بفضل ما بين القيمتين؛ لأنه لما أوجب الأولى بلسانه فقد جعل مقدار مالية الأولى لله عالى فلا يكون له أن يستفضل لنفسه شيئا، ولهذا يلزمه التصدق بالفضل قال بعض مشايخنا: هذا إذا كان الرجل فقيرا فإن كان غنيا فليس عليه أن يتصدق بفضل القيمة، قال الإمام شمس الأئمة السرخسي الصحيح أن الجواب فيهما على السواء يلزمه التصدق بالفضل غنيا كان أو فقيرا؛ لأن الأضحية وإن كانت واجبة على الغني في الذمة فإنما يتعين المحل بتعيينه فتعين هذا المحل بقدر المالية لأن التعيين يفيد في ذلك.‘‘

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 321):

"(وفقير) عطف عليه (شراها لها)؛ لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها، (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أولا)؛ لتعلقها بذمته بشرائها أولا، فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها.
(قوله: لوجوبها عليه بذلك) أي بالشراء، وهذا ظاهر الرواية؛ لأن شراءه لها يجري مجرى الإيجاب، وهو النذر بالتضحية عرفاً، كما في البدائع."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201143

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں