بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے نصاب کا ثبوت


سوال

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا نصاب مقرر کیا ہے ؟ اور اگر کیا ہے تو اس کی مقدار کیا ہے؟

جواب

قربانی کا اجمالی حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورۃ کوثر  کی اس آیت میں دیا ہے:  فصل لربک وانحر اس آیت  کی تفسیر میں مفسرین نے وانحر کی تفسیر یوم النحر  ہی کی قربانی  سے کی ہے، اسی طرح قربانی کے اجمالی احکام احادیث میں بھی ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو آدمی گنجائش کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔

سنن ابن ماجه  (4/ 302) :

" عن أبي هريرة، أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا"

مذكوره بالا  حدیث میں  "سعۃ" کا لفظ ہے کہ جس کے پاس گنجائش اور استطاعت ہو  ، اس کے باجود وہ قربانی نہ کرے۔۔ الخ،  اور گنجائش اور استطاعت  مالدار شخص کے پاس ہوتی ہے، اور شریعت مال دار اس کا شمار کرتی ہے جس کے پاس نصاب کے بقد مال ہو، اس لیے کہ اگر مطلقا مال پر قربانی کا حکم ہو، اور کسی کے پاس مال اس سے کم ہو یا اتنا ہو کہ  جس کی ادائیگی میں اس کا سب مال ختم ہوجائے تو   اس میں شدید حرج واقع ہوگا، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں شریعت کی نظر میں  جو  مال دار ہے اس پر قربانی لازم ہو۔ لہذا ایسے شخص پر قربانی لازم ہے جس پر صدقہ فطر کی ادائیگی لازم ہے، اور جس کے پاس نصاب سے کم مال ہو اس پر قربانی لازم نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 64):

" ومنها الغنى لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط - عليه الصلاة والسلام - السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر، وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200928

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں