بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے لیے خریدا گیا جانور تبدیل کرنا


سوال

 شوہر قربانی کے لیے دو بکرے لیکر آیا اور کہا کہ ایک میرے طرف سے اور ایک میری بیوی کی طرف سے ہے پھر بیوی نے اپنے لیے ان میں سے ایک کو متعین کیا اور پھر دوسرے دن شوہر نے کہا کہ یہ بکرا کمزور ہے اس کو بیچ کر میں آپ کا بھینس میں حصہ رکھ دیتا ہوں تو کیا اب بکرے کی جگہ وہ حصہ کافی ہوجائے گا۔

جواب

قربانی کے لیے خریدا گیا جانور فروخت کرنا مناسب نہیں ہے،تاہم اگر فروخت کرکےبڑے جانور  میں  حصہ لینا چاہتے ہیں اور وہ حصہ بکرے کی فروخت شدہ قیمت سے کم ہے تو باقی رقم کو صدقہ کرنا چاہئے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو باع الأضحية جاز خلافا لأبي يوسف رحمه الله تعالى، ويشتري بقيمتها أخرى ويتصدق بفضل ما بين القيمتين."

(کتاب الاضحیۃ،الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها،ج5،ص302،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101867

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں