بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور / ہرن اور کینگرو کی قربانی کا حکم


سوال

کیا  ہرن یا کینگرو کی قربانی جائز ہے؟

جواب

قربانی کے جانور شرعی طور پر متعین ہیں،ان میں قیاس کو دخل نہیں ہے، اور شریعت میں صرف تین قسم کے جانوروں کی قربانی ثابت ہے:

 پہلی قسم : اونٹ۔ نر و مادہ

دوسری قسم : گائے، بھینس۔ نر و مادہ

تیسری قسم : بکرا/بکری، مینڈھا، بھیڑ، دنبہ ۔ نر ومادہ

ان کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

نیز   قربانی پالتو مویشی کی ہوتی ہے، لہٰذا جو جانور فطری طور پر پالتو نہ ہو (خواہ اسے پال کر عادی کردیا جائے) اس کی قربانی جائز نہیں ہے، لہذا ہرن یا کینگرو کی قربانی جائز نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:
 (أما جنسه) : فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة: الغنم أو الإبل أو البقر، ويدخل في كل جنس نوعه، والذكر والأنثى منه والخصي والفحل لانطلاق اسم الجنس على ذلك، والمعز نوع من الغنم والجاموس نوع من البقر، ولايجوز في الأضاحي شيء من الوحشي". (5 / 297،کتاب الاضحیۃ، ط: رشیدیہ )  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200400

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں