بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے بڑے جانور میں دو افراد کا شریک ہونا اور گوشت برابر تقسیم کرنا


سوال

اگر دو شریک گاۓ  کی قربانی کررہے ہوں تو کیا وہ آدھا آدھا گوشت تقسیم کر کے لے سکتے ہیں یا ان کو چاہیے کہ ایک شریک 3  حصے لے اور دوسرا شریک 4 حصے  لے؟

جواب

قربانی کے بڑے  جانور  (گائے بھینس اونٹ وغیرہ) میں زیادہ سے زیادہ سات حصہ کرنا جائز ہے، البتہ ایک بڑے جانور میں سات سے کم افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں، نیز جتنے افراد کی شرکت ہوگی بڑے جانور کی قیمت اور گوشت اسی تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔

لہذا  صورتِ مسئولہ میں اگر گائے میں  دو افراد  شریک  ہوں  اور انہوں نے کسی اور کی طرف سے قربانی کی نیت بھی نہیں کی تھی  اور وہ دونوں برابری کی بنیاد پر شرکت چاہتے ہوں تو اس صورت میں جانور کی کل قیمت کی ادائیگی  نصف نصف دونوں پر آئے گی اور جانور کا گوشت بھی وزن کرکے آدھا آدھا دونوں کے حصہ میں آئے گا، البتہ اگر دونوں شرکاء میں سے کسی ایک نے چار حصہ کیے ہوں اور دوسرے نے تین کیے ہوں تو اس صورت میں جانور کی کل قیمت کے سات حصے کرکے چار حصوں کی قیمت کی ادائیگی ایک شریک کے ذمے آئے گی، جب کہ  تین حصوں کی قیمت کی ادائیگی دوسرے شریک کے ذمے  میں ہوگی اور گوشت بھی اسی تناسب سے تقسیم ہوگا۔

ملحوظ رہے کہ گوشت کی تقسیم بھی اس وقت ضروری ہوگی جب وہ تقسیم چاہیں، لیکن اگر گھر کے ہی افراد ہوں اور تقسیم کیے بغیر ہی رشتے داروں اور غریبوں میں تقسیم کردیں اور گھر میں مشترکہ کھانے کے لیے کچھ رکھ لیں تو یہ بھی درست ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70):

"و لا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.

وقال مالك - رحمه الله -: يجزي ذلك عن أهل بيت واحد - وإن زادوا على سبعة -، ولا يجزي عن أهل بيتين - وإن كانوا أقل من سبعة -، والصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة»۔ وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة»، من غير فصل بين أهل بيت وبيتين؛ ولأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لا يتجزأ ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي ؛ للجواز عن سبعة مطلقاً، فيعمل بالقياس فيما وراءه ؛ لأن البقرة بمنزلة سبع شياه، ثم جازت التضحية بسبع شياه عن سبعة سواء كانوا من أهل بيت أو ،بيتين فكذا البقرة ... ولا شك في جواز بدنة أو بقرة عن أقل من سبعة بأن اشترك اثنان أو ثلاثة أو أربعة أو خمسة أو ستة في بدنة أو بقرة؛ لأنه لما جاز السبع فالزيادة أولى، وسواء اتفقت الأنصباء في القدر أو اختلفت؛ بأن يكون لأحدهم النصف وللآخر الثلث ولآخر السدس بعد أن لا ينقص عن السبع، ولو اشترك سبعة في خمس بقرات أو في أكثر فذبحوها أجزأهم ؛ لأن لكل واحد منهم في كل بقرة سبعها، ولو ضحوا ببقرة واحدة أجزأهم فالأكثر أولى، ولو اشترك ثمانية في سبع بقرات لم يجزهم؛ لأن كل بقرة بينهم على ثمانية أسهم فيكون لكل واحد منهم أنقص من السبع، وكذلك إذا كانوا عشرة أو أكثر فهو على هذا."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200705

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں