بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے بڑے جانور میں ایک شخص کی مختلف نیتیں اور احسن الفتاوی کے ایک رسالہ کی تحقیق


سوال

 فتوی نمبر : 143909201579ملاحظہ کیا ہے، اس میں قربانی کے ساتھ عقیقہ کا حصہ رکھنا جائز قرار دیا ہے، جب کہ احسن الفتاوی جلد نمبر سات میں قربانی میں ایک شخص کے دو حصے کے عنوان سے رسالہ ہے،  جس میں ایک ہی شخص کے لیے تعدد نیات پر اشکالات ہیں، کیا اس کا حتمی فیصلہ ہوا ہے؟

جواب

قربانی کے  بڑے جانور   (گائے ، بیل اور اونٹ وغیرہ ) میں  سات حصے ہوتے ہیں ، اور ایک بڑا جانور سات افراد کی طرف سے کافی ہوجاتا ہے اور یہ نص سے ثابت ہے۔

قربانی کے  بڑے جانور  کے سات حصوں میں اگر مختلف لوگ الگ الگ نیت سے شریک ہوں،  لیکن سب کی نیت تقرب اور عبادت کی ہو  مثلًا بعض حصوں میں  قربانی کی نیت کی جائے اور بعض حصوں میں عقیقہ کی نیت کی جائے، یا بعض حصوں میں ولیمہ کی نیت کی جائے، تو یہ سات حصے ہر ایک کی طرف سے اس کی نیت کے موافق ادا ہوجائیں گے،  یہ بالاتفاق ہے۔

اسی طرح اگر ایک ہی شخص ایک بڑے جانور میں اپنی ہی طرف سے ایک حصہ  قربانی کا اور ایک حصہ کسی اور واجب کا یا کسی نفلی چیز کا رکھتا ہے تو  بھی جمہور اہل علم کے نزدیک   اس ایک شخص کی ان مختلف نیات کا اعتبار ہوگا، اس لیے نصاً بات معلوم ہے کہ بڑے جانور میں سات حصے ہوتے ہیں۔البتہ اس صورت میں مفتی رشید  احمد لدھیانوی صاحب نور اللہ مرقدہ کی رائے یہ تھی  کہ ایک بڑے جانور میں ایک شخص کی مختلف نیات کا اعتبار نہیں ہے، یہ حضرت کا تفرد تھا   جسے دیگر معاصر اہلِ علم نے قبول نہیں کیا تھا، ہمارے دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن   کے اکابرین نے بھی  دیگر اہلِ علم کی طرح اس رائے کو قبول نہیں کیا تھا، لہذا  ایک بڑے جانور میں خواہ مختلف لوگ یا ایک شخص متعدد عبادات کی نیت کرتا ہے تو اس کا اعتبار ہوگا۔

نیز خود مفتی  صاحب دامت برکاتہم نے اسی رسالہ میں   اپنی رائے پر عمل  میں حرج کو ظاہر کیا ہے،  اور جواز کے قول کو انسب اوراوسع کہا ہے، ملاحظہ ہو:

" چوں کہ بدون ِ نیت تعدد ایک مرجوح قول تعدد کا ہے، پھر معاصرین کا فتویٰ بھی اعتبارِ نیت تعدد  کا ہے، علاوہ ازیں اس میں ابتلاءِ عام ہے، اور قول عدمِ جواز میں حرج عظیم ہے، لہذا ایک گائے میں شخصِ واحد  کی طرف سے اضحیہ، دمِ شکر اور دمِ جنایت جمع کرنے کے جواز کا قول  انسب واوسع ہے۔"

(احسن الفتاوی (7/549)، کتاب الاضحیۃ والعقیقہ، عنوان رسالہ : گائے کی قربانی میں ایک شخص کے دو حصے، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200255

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں