بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کرنے کے بعد جانور کی قیمت متعین کرکے ادا کرنے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سات افراد مل کر قربانی کا ایک جانور (گائے، بیل) عید الاضحی کے موقع پر قربان کرتے ہیں، اور وہ جانور انہی سات افراد میں سے کسی ایک کا ذاتی ہوتا ہے، وہ تمام افراد قربانی سے قبل اس کی قیمت کا تعین نہیں کرتے بلکہ قربانی اور گوشت کی برابر تقسیم کے بعد اس کی قیمت کا تعین کرتے ہیں، اور پھر متعینہ قیمت مالک کو ادا کرتے ہیں، مذکورہ بالا تفصیل کی رو سے قربانی کا شرعا کیا حکم ہے؟

وضاحت: مالک گوشت کے ناپ تول کے بعد بازار میں رائج گوشت کی قیمت کے تناسب سے قربانی کے جانور کی قیمت کا تعین کرتا ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر سات افراد مل کر گائے یا بیل کی قربانی کرتے ہیں اور قربانی کا جانور شرکاء میں سے کسی کا ذاتی ہوتا ہے لیکن شرکاء کے مابین قربانی سے قبل جانور کی قیمت طے نہیں ہوتی بلکہ قربانی کے بعد گوشت کی تقسیم کے بعد بازار میں رائج گوشت کی قیمت کے تناسب سے قیمت مقرر کی جاتی ہے اور پھر وہ قیمت جانور کے مالک کو ادا کردیا جاتا ہے، تواس صورت میں شرعا جانور کے مالک کی قربانی تو ادا ہوجائے گی تاہم بقیہ شرکاء کی قربانی ادا نہیں ہوگی، اس لئے کہ اس میں جانور کی قیمت متعین نہیں اور قیمت متعین نہ ہونے کی وجہ سے ثمن مجہول ہے، جس کے سبب عقد ہی نہیں ہوا اور عقد نہ ہونے کی وجہ سے قربانی بھی ادا نہیں ہوگی، لہذا شرکاء کے لئے اس طرح قربانی کرنا صحیح نہیں، البتہ اس طریقہ سے قربانی کرنے کی صحیح صورت یہ ہے کہ یا تو شرکاء قربانی سے قبل حصہ کے بقدر رقم مالک کو ادا کردیں اور اگر ادا کرنے کی طاقت نہ ہو یا کوئی عذر ہو تو اس صورت میں شرکاء قربانی سے قبل حصہ کے بقدر رقم متعین کرلیں اور پھر قربانی کے بعد وہ متعین رقم ادا کردیں۔ تو اس صورت میں سب شرکاء کی قربانی ادا ہوجائے گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(أما) جهالة المبيع: فلأن العقد في أحدهما بات وفي الآخر خيار ولم يعين أحدهما من الآخر فكان المبيع مجهولا، وأما ‌جهالة ‌الثمن: فلأنه إذا لم يسم لكل واحد منهما ثمنا فلا يعرف ذلك إلا بالحزر والظن فكان الثمن مجهولا والمبيع مجهولا وجهالة أحدهما تمنع صحة البيع فجهالتهما أولى."

(كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع: 5/ 157، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"وأما ‌جهالة ‌الثمن فمانعة أيضا... قال ابن عابدین: (قوله وأما ‌جهالة ‌الثمن فمانعة) قال الرملي يعني مانعة من الجواز، وهل تفيد الملك أقول: سيأتي في أحكام البيع الفاسد أنه مع نفي الثمن باطل ومع السكوت عنه فاسد والظاهر أن الجهالة توجب الفساد لا البطلان تأمل اهـ"

(كتاب البيع: 5/ 296، ط: دار الكتاب الإسلامي)

وفیہ ایضا:

"(قوله ‌وصح ‌بثمن ‌حال ‌وبأجل ‌معلوم) أي البيع لإطلاق النصوص وفي السراج الوهاج إن الحلول مقتضى العقد وموجبه والأجل لا يثبت إلا بالشرط اهـ. قيد بعلم الأجل؛ لأن جهالته تفضي إلى النزاع فالبائع يطالبه في مدة قريبة والمشتري يأباها فيفسد."

(كتاب البيع: 5/ 301، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن) (كان شريك الستة نصرانيا أو مريدا اللحم) (لم يجز عن واحد) منهم."

(‌‌كتاب الأضحية: 6/ 326، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان كل واحد منهم صبيا أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانيا ونحو ذلك لا يجوز للآخرين أيضا كذا في السراجية."

(كتاب الأضحية، الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا: 5/ 304، ط: ماجدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101758

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں