بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم


سوال

ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے قربانی کرنے تک قربانی کا ارادہ رکھنے والے کو جسم کے بال اور ناخن ناکاٹنا کیسا ہے ؟

جواب

اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نےارشاد فرمایا:

’’جب ذو الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال، ناخن یا کھال کا کچھ بھی حصہ نہ کاٹے، جب تک قربانی نہ کردے.‘‘

ایک روایت میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ ذو الحجہ کا چاند نظر آتے ہی بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے۔

اس حدیث کی روشنی میں فقہاءِ کرام نے فرمایا ہے کہ جس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے اس کے لیے مستحب ہے کہ ماہِ ذی الحجہ کے آغاز سے جب تک قربانی کا جانور ذبح نہ کرے جسم کے کسی عضو سے بال اور ناخن صاف نہ کرے، نیز بلا ضرورت کھال وغیرہ بھی نہ کاٹے، اور یہ استحباب صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو۔

 نیز اس میں یہ ملحوظ رہے کہ اگر زیر ناف بال اور ناخنوں کو چالیس دن یا زیادہ ہو رہے ہوں تو ایسی صورت میں ان کی صفائی کرنا ضروری ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

قربانی کرنے والے کا بال اور ناخن نہ کاٹنا اور اس حکم کی حکمت

صحيح مسلم (ج:3، ص:1565، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت):

’’حدثنا ابن أبي عمر المكي، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، سمع سعيد بن المسيب، يحدث عن أم سلمة رضي الله عنها، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا دخلت العشر، وأراد أحدكم أن يضحي، فلا يمس من شعره وبشره شيئا»، قيل لسفيان: فإن بعضهم لا يرفعه، قال: «لكني أرفعه».

وحدثني حجاج بن الشاعر، حدثني يحيى بن كثير العنبري أبو غسان، حدثنا شعبة، عن مالك بن أنس، عن عمرو بن مسلم، عن سعيد بن المسيب، عن أم سلمة رضي الله عنها، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا رأيتم هلال ذي الحجة، وأراد أحدكم أن يضحي، فليمسك عن شعره وأظفاره».‘‘

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144212200041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں