بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ہدیہ کی گئی بکری کی قربانی کرنا


سوال

میں ایک فرم میں جاب کرتا ہوں ،  مجھے باس نے 1 عدد بکرا گفٹ کیا ہے، کیا میری طرف سے قربانی ہو جائے گی؟ 

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں یعنی آپ کی ملکیت میں  ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو،  یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سےزائد اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  ہو تو شرعاًآپ پر قربانی کرنا واجب ہے ،اور اگر آپ صاحبِ نصاب نہیں ہے تو پھر آپ پر قربانی واجب نہیں ہوگی ،البتہ نفلی قربانی کرسکتے ہیں ۔

بہر صورت  آپ کو باس نے  جو بکرا بطورِ ہدیہ دیا  ہے اور  آپ  اس کےمالک بن گئے ہیں تو اگر آپ اس  کی قربانی کریں گے تو آپ کی طرف سے شرعاً قربانی ہوجائے گی ۔

فتاوی شامی میں ہے :

'' وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)،

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم''.

(کتاب الاضحیۃ،ج:۶،ص:۳۱۲،سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144312100073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں