بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے گوشت سے ابتدا کرنے کا وقت


سوال

قربانی کے دن  اگر کوئی شخص اپنے مذبوحہ جانور کے  گوشت سے افطار  کرے سورج زائل ہونے کے بعد تو اس کا حکم کیا ہوگا؟  اور   یہ  کہ قربانی کے جانور ذبح کرنے کے کتنے  وقت کے بعد افطار  کرنے کا شرعاً حکم دیا گیا  ہے؟  حوالہ سمیت بتائیے گا !

ہمارے ایک عالم کا  کہنا تھا کہ سورج زائل ہونے کے بعد اگر قربانی کے  جانور سے افطار کرے تو وہ کبیرہ گناہ ہونے کے قریب ہے،  یہ بات کتنی صحیح ہے؟

 

جواب

عید الاضحی کے دن جس شخص نے قربانی کرنی  ہو، اس کے لیے اپنی قربانی کے گوشت سے کھانے کی ابتدا کرنا اور اس سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب  ہے،  یہ رسول اللہ ﷺ سے  بھی ثابت ہے،  اسی پر لوگ عمل کی کوشش کرتے ہیں، اور جن لوگوں نے قربانی نہیں کرنی، ان کے لیے بھی کھانے کی ابتدا کسی کی بھی قربانی کے گوشت سے کرنا افضل اور بہتر ہے، کیوں کہ عید الاضحیٰ کا دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہمان نوازی کا دن ہے ، لہٰذا مستحب یہ ہے کہ ہر شخص اس دن کھانے کی ابتدا  اللہ تعالیٰ کی ضیافت کے کھانے  (یعنی قربانی کے گوشت) سے کرے ۔  اسی عمل کو بعض لوگ روزہ رکھنا سمجھ لیتے ہیں، اور گوشت سے ابتدا کو افطار سے تعبیر کرتے ہیں  حال آں کہ اس عمل کو روزہ کہنا درست نہیں ہے؛  کیوں کہ روزہ تو صبح صادق سے لے کر مغرب تک ہوتا ہے اور  عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا ناجائز ہے۔  نیز  یہ کوئی واجب عمل نہیں اور نہ اس میں شریعت کی طرف سے کوئی قید ہے کہ زوال سے پہلے ہو یا بعد    میں، اور نہ زوال کے بعد کبیرہ گناہ ہے؛ لہٰذا اگر قربانی میں تاخیر ہو اور بھوک لگی ہو یا کوئی عذر ہو تو قربانی کے گوشت کے علاوہ کوئی چیز کھانے میں  کوئی حرج نہیں ہے۔

بہرحال لوگوں کا اسے روزے سے تعبیر کرنا یا روزے کی نیت سے بھوکا رہنا درست نہیں ہے، اور روزے کی نیت سے اگر کوئی شخص غروب تک بھوکا رہا تو یہ جائز نہیں ہوگا۔

 السنن الکبری للبیهقي:

"عَن بُرَيْدَةَ رَضيَ الله عنه قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى يَأْكُلَ شَيْئًا، وَإِذَا كَانَ الْأَضْحَى لَمْ يَأْكُلْ شَيْئًا حَتَّى يَرْجِعَ، وَكَانَ إِذَا رَجَعَ أَكَلَ مِنْ كَبِدِ أُضْحِيَتِه".

(السنن الكبرى للبيهقي، كتاب صلاة العيدين، باب يترك الأكل يوم النحر حتى يرجع: ٣/ ۴۰١)

ترجمہ :حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے کچھ کھائے پیے بغیر نہیں نکلتے تھے، اور عیدالاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہو کر آنے تک کچھ کھاتے پیتے نہ تھے،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور میں سے ابتدا کلیجی تناول فرمانے سے کرتے تھے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 123):

"قال الزيلعي في الأكل يوم الأضحى قبل الصلاة: المختار أنه ليس بمكروه، و لكن يستحب أن لايأكل. و قال في البحر هناك: و لايلزم من ترك المستحب ثبوت الكراهة، إذ لا بد لها من دليل خاص."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201894

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں